رواں مالی سال 2018-19ء
کا اقتصادی سروے جاری کر دیا گیا، مشیر خزانہ کا معاشی استحکام اور اداروں کی بہتری
کے لئے سات نکاتی حکمت عملی کا اعلان
![]() |
رواں مالی سال 2018-19ء
کا اقتصادی سروے جاری کر دیا گیا، مشیر خزانہ کا معاشی استحکام اور اداروں کی بہتری
کے لئے سات نکاتی حکمت عملی کا اعلان
زرعی شعبے کی شرح نمو 0.9
فیصد، صنعتی شعبے کی 1.4 فیصد، خدمات کے شعبے کی 4.7 فیصد اور عبوری جی ڈی پی کی
شرح نمو کا تخمینہ 3.3 فیصد، جنگلات کے شعبے کی شرح نمو 6.47 فیصد، کان کنی کے
شعبہ کی شرح نمو منفی 1.6 فیصد، تھوک اور پرچون تجارت کے شعبہ کی شرح نمو 3.1 فیصد،
مواصلات کے شعبہ کی شرح نمو 3.34 فیصد، ریلوے کے شعبے کی شرح نمو 38.93 فیصد، فضائی
نقل و حمل کے شعبے کی شرح نمو 3.38 فیصد، روڈ ٹرانسپورٹ کے شعبہ کی شرح نمو 3.85 فیصد،
مالیات اور بیمہ کے شعبہ کی شرح نمو 5.14 فیصد، عمومی حکومتی خدمات کے شعبہ کی شرح
نمو 7.9 فیصد ، بجلی اور گیس کے شعبے کی شرح نمو 40.54 فیصد رہی۔ رواں مالی سال کے
دوران گندم کی پیداوار 25.195 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی جو پچھلے مالی سال سے 0.5 فیصد
زائد ہے، زرعی شعبہ کی شرح نمو 2018-19 کے 3.8 فیصد کے مقابلے میں 0.85 فیصد ریکارڈ
کی گئی
رواں مالی سال 2018-19ء
کا اقتصادی سروے جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت زرعی شعبے کی شرح نمو 0.9 فیصد،
صنعتی شعبے کی 1.4 فیصد، خدمات کے شعبے کی 4.7 فیصد اور عبوری جی ڈی پی کی شرح نمو
کا تخمینہ 3.3 فیصد، جنگلات کے شعبے کی شرح نمو 6.47 فیصد، کان کنی کے شعبہ کی شرح
نمو منفی 1.6 فیصد، تھوک اور پرچون تجارت کے شعبہ کی شرح نمو 3.1 فیصد، مواصلات کے
شعبہ کی شرح نمو 3.34 فیصد، ریلوے کے شعبے کی شرح نمو 38.93 فیصد، ہوائی نقل و حمل
کے شعبے کی شرح نمو 3.38 فیصد، روڈ ٹرانسپورٹ کے شعبہ کی شرح نمو 3.85 فیصد، مالیات
اور بیمہ کے شعبہ کی شرح نمو 5.14 فیصد، عمومی حکومتی خدمات کے شعبہ کی شرح نمو
7.9 فیصد اضافہ رہی ہے جبکہ بجلی اور گیس کے شعبے کی شرح نمو 40.54 فیصد کا اضافہ
ہوا ہے۔
رواں مالی سال کے دوران
گندم کی پیداوار 25.195 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی جو پچھلے مالی سال سے 0.5 فیصد زائد
ہے، زرعی شعبے کی شرح نمو 2018-19 کے 3.8 فیصد کے مقابلے میں 0.85 فیصد ریکارڈ کی
گئی ہے جبکہ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے معاشی استحکام اور اداروں کی بہتری
کے لئے سات نکاتی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے ملک
کو قرضوں کے دلدل میں پھنسایا ہے، ملکی بہتری کے لئے ہم نے اہم فیصلے کرنے ہیں،
تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر اور قرضے 31 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، ایک دو دنوں
میں بڑے فیصلے سامنے آئیں گے، کمزور طبقات کو جس حد تک ممکن ہوا حکومت معاونت کرے
گی، بجلی کے چھوٹے صارفین کے لئے قیمتوں میں اضافہ نہیں ہو گا، معیشت کو فوری خطرے
سے نکال کر استحکام کی طرف لائیں گے، نجی شعبے کے ذریعے ترقی کا پہیہ چلایا جائے
گا، کمزور افراد کو اپنی ترجیحات میں فوقیت دیں گے، حکومت نئے بجٹ میں بھی نچلے
طبقے پو بوجھ نہیں پڑنے دے گی، امراء کو ٹیکس لازمی دینا ہو گا، کفایت شعاری سے
اخراجات میں کمی لائیں گے، بڑے سے بڑے شخص اور ادارے کو بھی کفایت شعاری اپنانا
پڑے گی، اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم کے نتائج 30 جون تک سامنے آجائیں گے، ملک کے
زائد آمدن والے طبقے کو معاشی استحکام کے لئے حکومت کا ہاتھ بٹانا ہو گا۔
انہوں نے ان خیالات کا
اظہار پیر کو یہاں وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب خان، وزیر مملکت برائے
محصولات حماد اظہر، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود،
چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور اقتصادی ٹیم کے دیگر ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس
میں رواں مالی سال 2018-19ء کا اقتصادی سروے جاری کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ
ہماری کوشش ہے کہ آپ کے توسط سے عوام کے سامنے معیشت کی درست پوزیشن پیش کی جائے
اور مشکل صورتحال کے حوالہ سے عوام کیلئے کئے جانے والے حکومتی اقدامات سے آپ کو
آگاہ کریں، معیشت کی ترقی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہماری ترجیحات میں شامل
ہیں تاکہ عوام کی امیدیں پوری ہو سکیں، ایک چیز صاف ظاہر ہے کہ موجودہ حکومت گذشتہ
سال اقتدار میں آئی تو پاکستان میں اقتصادی صورتحال کیا تھی اور ہم یہاں کیوں
کھڑے ہیں، ہماری معاشی کمزوریاں کیوں ظاہر ہو رہی ہیں،ہمارے پاس معدنیات، زراعت
اور افرادی قوت سمیت دیگر وسائل کی فراوانی ہے، پاکستان کے پاس کئی سو کلومیٹر کی
طویل ساحلی پٹی موجود ہے، اس کے باوجود آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ہر چند سال کے بعد
آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبور ہوتے ہیں، حکومت کو لوگوں کی جائز خواہشات پوری
کرنے میں دقت ہوتی ہے، موجودہ حکومت کو ورثے میں کیا ملا ۔
یہ اس سال کا اقتصادی
جائزہ ہے اور ہمارے لئے یہ اہم ہے کہ ہم سمجھیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمیں معاشی
مشکلات کیوں درپیش ہیں۔ اس حوالہ سے عوام بھی بخوبی واقف ہیں اور ہمیں بھی معاشی
اعداد و شمار ایمانداری سے بتانا ہوں گے۔ جب یہ حکومت 2018ء میں اقتدار میں آئی تو
معاشی پوزیشن کیا تھی ۔ ہمارے قرضوں کا حجم 31 ہزار ارب روپے تھا، یہ سب کچھ
موجودہ حکومت کے 10، 11 ماہ کے عرصہ اقتدار میں نہیں ہوا اور یہ اتنا بڑا قرض
گذشتہ کئی سالوں میں لیا گیا ہے۔
ہمارے قرضے اتنے زیادہ ہو
چکے ہیں کہ آنے والے سال میں ہمیں ان پر 3 ہزار ارب روپے سود دینا پڑے گا۔ آپ
اندازہ لگائیں کہ ایف بی آر کا ٹیکس وصولیوں کا ہدف 55 سو ارب روپے ہو اور این ایف
سی کے بعد صوبوں کو پیسے دیئے جائیں تو وفاقی حکومت کے پاس صرف 3 ہزار ارب روپے بچیں
گے جبکہ ہمیں قرضوں اور سود کی ادائیگیوں وغیرہ کیلئے 2900 ارب روپے دینا پڑیں تو
کیا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ 31 ہزار
ارب روپے کے قرضہ پر 3 ہزار ارب روپے سود کی ادائیگی کی جائے تو یہ ایک بڑا اہم
مسئلہ ہے جس کو ہمیں ذہن میں رکھنا چاہئے۔ دوسری جانب بیرون ملک سے جو قرض لیا گیا
ہے وہ تقریباً 100 ارب ڈالر کے قریب ہے جبکہ ہماری ڈالر کمانے کی استعداد میں گذشتہ
10 سال کے دوران صفر فیصد اضافہ ہوا ہے اور پانچ سال میں ہماری برآمدات بھی صفر فیصد
بڑھی ہیں، پانچ سال بعد بھی ہماری برآمدات 20 ارب ڈالر ہیں۔
یہ دوسرا اہم ایشو ہے جو
ہماری معیشت کیلئے ایک مسئلہ بنا ہوا ہے اس کی وجہ سے ہمارے روپے پر دبائو ہے اور
اس کی قدر میں کمی ہو رہی ہے کیونکہ ہم اپنی معاشی استعداد سے بہت زیادہ قرضہ لے
چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان قرضوں کو واپس کرنے کی ہماری صلاحیت بھی متاثر ہو رہی
ہے۔ اس حوالہ سے حکومت نے گذشتہ سال کے دوران کیا اقدامات کئے ہیں، وہ بھی آپ کے
ساتھ شیئر کئے جائں گے۔
انہوں نے کہا کہ 2 سال
قبل سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 18 ارب ڈالر تھا جو موجودہ حکومت
کے اقتدار میں آنے سے قبل کم ہو کر 9 ارب ڈالر رہ گیا۔ اسی طرح کرنٹ اکائونٹ
خسارہ بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر 20 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، ملک کا تجارتی
خسارہ 32 ارب ڈالر ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ ہم اس صورتحال میں کیوں ہیں اور یہ کس
کی پیدا کردہ ہے، ہمیں اس پر سوچنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ میں کسی
پر الزام نہیں لگا رہا لیکن ایک لمبے عرصے سے ملک کے بنیادی مسائل کے ساتھ ساتھ
اصلاحات پر توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی برآمدات کے اضافہ پر فوکس کیا گیا۔ انہوں
نے کہا کہ گذشتہ 20، 25 سال کے دوران ایشیاء سمیت دنیا کے کئی ممالک نے اقتصادی
ترقی حاصل کی ہے اور ان ممالک نے ترقی کی منازل طے کیں جنہوں نے اپنی برآمدات
بڑھائیں اور اس حوالہ سے ایک جامع حکمت عملی کے تحت اس پر عمل کیا۔
میں نے آپ کے سامنے
اعداد و شمار رکھے ہیں جن کے مطابق گذشتہ 10 سال کے دوران میں ہماری برآمدات میں
صفر فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر اور ہمارے بیرونی قرضہ جات
100 ارب ڈالر تک بڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے اخراجات میں کمی کیلئے
کوئی واضح کوشش نہیں کی اور نہ ہی اپنی آمدنی اور اخراجات میں فرق کو کم کیا ہے
جو 2300 ارب روپے تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی
ملک اپنی آمدنی سے زائد اتنی بڑی رقم خرچ کرے تو اس کو قرض ہی لینا پڑے گا یا نئے
نوٹ چھاپنے پڑیں گے اور قیمتوں میں اضافہ کرنا ہو گا۔ بیرونی قرضوں اور بجٹ خسارہ
سے ہم متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی عدم توازن کی وجہ سے ہمارا خسارہ
اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا
ہے کہ وہ مشکل فیصلے کرکے حالات کو مستقل بنیادوں پر درست کریں گے، چاہے اس میں 6
ماہ یا ایک سال کا عرصہ لگے۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ اب
ہم خسارے کو کم کرنے اور عوام کی مشکلات دور کرنے پر توجہ دے رہے ہیں کیونکہ حکومت
کی پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ سامنے کھڑے خطرات سے نمٹے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے
پہلا خطرہ یہ ہے کہ درآمدات کو کم کیا جائے اور اس حوالہ سے اقدامات کئے جائیں
تاکہ ڈالرز کی کمی کا مسئلہ حل ہو سکے۔ ہمیں پرتعیش اشیاء کی درآمدات پر پابندی
عائد کرنا ہو گی اور اگر امیر طبقات ایسی اشیاء خریدنا چاہیں تو انہیں زائد قیمت دینا
ہو گی۔
اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے
کہ درآمدات پر ڈیوٹی بڑھائی جائے تاکہ درآمدات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ حسابات
جاریہ کے خسارہ کو کم کرنے کا سفر شروع کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں
اضافہ کیلئے بھی حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان کو مراعات دی گئیںِ ہیں اور حکومت
نے اپنے پاس سے برآمدی شعبہ کو مختلف حوالوں سے سبسڈی کی مد میں پیسے ادا کئے ہیں۔
ہمارا ارادہ تھا کہ
برآمد کنندگان کی مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک غریب ملک کی غریب حکومت ہونے
کے باوجود ہم نے برآمد کنندگان کی مدد کی تاکہ قومی معیشت کو درپیش برآمدات کے
حوالہ سے خطرات سے نمٹ سکیں۔ اسی طرح حکومت نے غیر ملکی شعبہ کو اہمیت دیتے ہوئے
عالمی برادری سے اپنے تعلقات کو بہتر کیا اور وزیراعظم عمران خان نے اپنی ذاتی
کوششوں سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے 9.2 ارب ڈالر حاصل کئے تاکہ
زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام حاصل ہو سکے۔
مزید برآں پٹرولیم
مصنوعات کی درآمدات مؤخر ادائیگی پر کرنے کیلئے سعودی عرب سے 3.2 ارب ڈالر کی
سہولت حاصل کی گئی اور اسلامی ترقیاتی بینک سے بھی 1.1 ارب ڈالر کی مالی معاونت
حاصل کی۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پائیدار بنیادوں پر معاشی
استحکام کیلئے آئی ایم ایف سے بھی شراکت داری کی جائے گی تاکہ بیرونی دنیا دیکھے
کہ ہم اپنے اخراجات اور آمدنی میں توازن کیلئے تیار ہیں اور اس پر عمل بھی کر رہے
ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ
دنوں میں بھی کفایت شعاری کے حوالہ سے بڑے بڑے فیصلے کئے جائیں گے، حکومت نے فیصلہ
کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایشیائی
ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے بھی 3.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم ان اقدامات سے ملک کو مستقل بنیادوں پر خوشحال نہیں بنا سکتے لیکن
ہمیں اپنے ذرائع کو مضبوط کرنا ہو گا تاکہ پائیدار اقتصادی خوشحالی کے اہداف حاصل
کئے جا سکیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ
ہمارے لئے سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ہم اپنی افرادی قوت پر توجہ دیں اور ان کی
استعداد کار میں اضافہ کریں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں زیادہ طلب والی مصنوعات تیار
کرکے ان کو برآمد کریں تاکہ برآمدات کو فروغ حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت
کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک اور بڑی اہم چیز یہ سامنے آئی کہ بجلی، گیس، ریلوے
اور پی آئی اے سمیت دیگر بڑے حکومتی ادارے اندر سے کھوکھلے تھے اور ان کو بڑے
منظم انداز میں لوٹا گیا، غریب عوام کا پیسہ ان کی صحت اور تعلیم وغیرہ کی سہولیات
پر خرچ کرنے کی بجائے ان سفید ہاتھیوں پر خرچ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں
سرکاری اداروں کے اخراجات بڑھتے بڑھتے 13 سو ارب روپے تک پہنچ گئے اور یہ ایک بہت
بڑا خسارہ تھا، حکومت نے اس کو درست کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں بجلی کے شعبہ
میں اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی سالوں کے مسائل فوری طور پر
حل نہیں کئے جا سکتے لیکن حکومت کی نیت ہے کہ ان کو مستقل بنیادوں پر ختم کیا جائے
اور اس حوالہ سے آنے والے دنوں میں آپ کو کئی شواہد نظر آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام
کام حکومت نے اسی سال میں کئے ہیں، اس لئے رواں سال کا اقتصادی جائزہ بھی آپ کے
سامنے ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی جائزہ رپورٹ کے حوالہ سے آپ کے تمام
سوالوں کے جواب تفصیل میں دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کیلئے ایک اور بڑا
مسئلہ یہ ہے کہ امیر طبقہ ٹیکس نہیں دینا چاہتا جو ایک بڑی چیز ہے کیونکہ اگر ہم ٹیکس
جمع نہیں کر سکیں تو ملکی اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی یا ان پر ادا کیا جانے
والا سود بھی نہیں دے سکتے، یہ ایک بڑا بنیادی سوال ہے کہ ٹیکس کا دائرہ کار کس
طرح بڑھایا جائے، حکومتی آمدنیوں میں اضافہ کیلئے حکومت نے ایمنسٹی سکیم بھی
متعارف کرائی ہے جس کے نتائج 30 جون 2019ء تک سامنے آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی ہمیں
کئی اور کام کرنے ہوں گے تاکہ پائیدار اقتصادی ترقی کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ میں نے آپ کے سامنے ان چیزوں کا ذکر کیا ہے جن پر عملی
اقدامات کئے گئے ہیں اور آپ خود ہی اس کا فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی
چیز کی قیمت بڑھتی ہے تو اس سے حکومت کو دشواری ہوتی ہے کیونکہ حکومت آپ کے ووٹ
سے منتخب ہوئی ہے اور عوام کو جوابدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی بار
قیمتوں میں اضافہ لازم ہو جاتا ہے کیونکہ اگر دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھتیں تو
حکومت اس کو کیسے کم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ملک کی حکومت بہت امیر
ہو تو وہ عوام کو ریلیف دے سکتی ہے، دوسری صورت میں ایسا ناممکن ہے۔ مشیر خزانہ نے
کہا کہ مختلف مسائل کے باوجود حکومت کمزور طبقات کیلئے ہر طرح کی ممکنہ معاونت کی
فراہمی یقینی بنا رہی ہے، اس سلسلہ میں کم بجلی خرچ کرنے والے صارفین کو بھی
مراعات دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں
پاکستان کے عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ کم بجلی استعمال والوں کیلئے بجلی کی قیمت
نہیں بڑھے گی اور اس پر حکومت سبسڈی دے گی۔ انہوں نے کہا کہ غریب طبقات کیلئے بجلی
پر سبسڈی کیلئے 216 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی دبائو کے
باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے
کہا کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سماجی تحفظ کے مختلف پروگراموں کیلئے
بجٹ میں اضافہ کے ساتھ ساتھ کئی نئی سکیمیں بھی متعارف کرائی گئی ہیں اور رواں سال
کے مقابلہ میں آئندہ مالی سال کیلئے اس ضمن میں بجٹ میں دوگنی رقم رکھی گئی ہے
اور 190 ارب روپے کے قریب بجٹ مختص کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری
ترجیحات میں اولین ترجیح قومی معیشت کا استحکام ہے۔ اس کے علاوہ ایک لمبے عرصہ سے
خراب ہونے والی معیشت کی سمت درست کرنا ہمارا دوسرا بڑا عزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا
کہ حکومت کی تیسری بڑی ترجیح بین الاقوامی برادری سے اچھے تعلقات اور کاروبار میں
اضافہ ہے تاکہ قومی برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔ اسی طرح اندرون ملک کاروبار کی ترقی
اور کاروباری آسانیاں فراہم کرنا ہمارا ترجیحات میں شامل ہے جبکہ ملک کے سب سے زیادہ
متاثر ہونے والے کمزور طبقات کی ترقی بھی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے
ہیں کہ حکومت اگر کچھ کر سکے تو سب سے پہلے ان طبقات کیلئے کرے۔ چھٹی ترجیح ٹیکس نیٹ
میں اضافہ ہے تاکہ امیروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور وہ لازمی اپنی آمدنی پر
ٹیکس دیں۔ انہوں نے کہا کہ امیروں کو ٹیکس لازمی دینا ہو گا تاکہ وہ قومی معیشت میں
شامل ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ساتویں ترجیح کفایت شعاری کی پالیسی پر
سختی سے عملدرآمد ہے تاکہ کوئی بھی ادارہ یا شخص حکومت کا ایک ٹکہ بھی ضائع نہ کر
سکے۔
اس موقع پر مختلف سوالات
کے جواب دیتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے ہاں جمہوریت
ہے، جمہوریت میں لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ
احتجاج جیسے عوامل جمہوریت کے تحفے ہیں اور حکومت کو انہیں سہنے کی عادت ہونی چاہئے
تاہم ہر چیز کی ایک حد ہونی چاہئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں حفیظ شیخ نے کہا کہ غیر
منظم معیشت کے متعلق اعداد و شمار اقتصادی سروے میں شامل کئے جانے کی اچھی تجاویز
ہے اس پر غور ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرضوں کے
انتظام کے نظام کو پائیدار بنیادوں پر اور بہتر انداز میں چلانے کی ضرورت ہے۔ اس
موقع پر وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب خان نے کہا کہ تیل و گیس کے شعبہ میں
40 نئے بلاکس نیلامی کیلئے پیش کئے جائیں گے، بجلی چوری کی روک تھام کیلئے آٹو میٹرنگ
کا نظام متعارف کرایا جائے گا، ڈسٹری بیوشن کے شعبہ میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری
کے مواقع موجود ہیں، شمسی توانائی کے شعبہ میں 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا
سکتی ہے، رمضان المبارک کے دوران بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں کی گئی، عیدالفطر کے موقع
پر بھی وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر لوڈ شیڈنگ نہیں کی گئی، گذشتہ سات
ماہ کے دوران بجلی کی مد میں 91 ارب روپے کی زائد وصولیاں کی گئی ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم کے
مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک میں ڈی انڈسٹریلائزیشن
کو روکا ہے جو بہت بڑی بات ہے، آج لاہور، فیصل آباد اور کراچی کے تاجروں کے پاس
پہلے سے زیادہ آرڈرز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ملکی برآمدات کو بڑھانے کیلئے
مارکیٹ تک رسائی چاہئے تھی اس حوالہ سے موجودہ حکومت نے چین کے ساتھ ایف ٹی اے سمیت
کئی کامیاب اقدامات کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ
حکومت کی کوششوں سے برآمدات کی مقدار میں اضافہ ہوا جبکہ درآمدات میں کمی آئی
ہے، تجارتی خسارہ بھی کم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات کی مد میں 4.5 ارب
ڈالر کی بچت ہوئی ہے اور توقع ہے کہ جون کے آخر تک یہ بچت 5 ارب ڈالر ہو جائے گی۔
قبل ازیں وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اقتصادی جائزہ
برائے 2018-19ء کی میڈیا کے سامنے رونمائی کی جس کے بعد اقتصادی جائزہ کا باقاعدہ
طور پر اجراء کیا گیا۔

0 Comments