پاکستانی قانون غیر ملکی مجرموں کے سامنے بے بس کیوں ؟ پاکستانی قوم اور سیاستدانوں کو آئینہ دکھا دینے والی تحریر سامنے آ گئی

پاکستانی قانون غیر ملکی مجرموں کے سامنے بے بس کیوں ؟ پاکستانی قوم اور سیاستدانوں کو آئینہ دکھا دینے والی تحریر سامنے آ گئی

اسلام آباد سے میرا یہ تیسرا کالم ہے، آج صبح سویرے ملتان سے ڈاکٹر رضا محی الدین کا فون آیا، ڈاکٹر صاحب ڈسٹرکٹ ہسپتال ملتان کے ایم ایس رہ چکے ہیں اور قانونی حوالے سے پوسٹ مارٹم اور میڈیکو لیگو کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، انہوں نے کہا آپ اسلام آباد میں ہیں۔
معروف صحافی نسیم شاہد اپنے کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ذرا یہ تو بتائیں کہ وہاں ایک امریکی سفارت کار کی کار سے جاں بحق ہونے والے نوجوان کے لئے لوگ آواز اٹھا رہے ہیں، یا نہیں؟۔۔۔ میں نے کہا بظاہر تو ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ جو ایسے کسی احتجاج کا پتہ دیتی ہو، سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے اور یوں لگتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔میں نے انہیں بتایا کہ ابھی کچھ دیر پہلے میں اس ٹریفک سگنل سے گذرا ہوں، جسے توڑتے ہوئے امریکی کرنل جوزف ایمانویل پال نے اپنی تیز رفتار گاڑی سے موٹر سائیکل سواروں کو ہوا میں اچھال دیا، خوش قسمتی سے ایک بچ گیا اور دوسرا ہلاک ہوگیا۔ یہ ایک بالکل واضح قسم کا سگنل والا چوک ہے، جہاں سے ڈرائیور کو صاف نظر آجاتا ہے کہ بائیں طرف سے کوئی آرہا ہے یا نہیں؟۔۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرنل جوزف کی گاڑی کے آگے کوئی دوسری گاڑی بھی نہیں تھی کہ جس کی وجہ سے اسے بائیں طرف سے آنے والے موٹر سائیکل سوار کو دیکھنے میں دشواری پیش آتی۔ ایک تو اس قاتل امریکی نے ٹریفک اشارہ توڑا اور دوسرا یہ تک دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ بائیں طرف سے کوئی گاڑی یا موٹر سائیکل تو نہیں آرہی؟
حادثے کی جو فوٹیج سامنے آئی ہے، اس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹر سائیکل سوار سبز بتی ہونے کی وجہ سے سڑک کو کراس کرتے ہوئے تقریباً اختتام تک آجاتا ہے، جہاں امریکی سفارت کار کی گاڑی اسے ٹکر مارتی ہے۔ پولیس نے امریکی سفارت کار کا طبی معائنہ بھی نہیں کرایا، البتہ اس کی ڈرائیونگ سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اس وقت نشے کی حالت میں تھا، وگرنہ اتنی سنگین غلطی کیوں کرتا۔میری یہ باتیں سن کر ڈاکٹر رضا محی الدین گویا ہوئے کہ سب سے سنگین غلطیاں تو پولیس نے کی ہیں، ایک نارمل پریکٹس ہے کہ پولیس حادثات میں مرنے والوں کا پوسٹ مارٹم کراتی ہے، لیکن یہاں مجرمانہ غفلت برتی گئی۔ پوسٹ مارٹم کے ساتھ ساتھ زخموں کا میڈیکولیگو بھی بنایا جاتا ہے، جس کا فائدہ مضروب یا متوفی کے ورثاء کو اس طرح ہوتا ہے کہ ان کے مطابق ملزم کو قانونی طور پر معاوضہ دینا پڑتا ہے، پولیس نے اس حوالے سے کچھ نہ کرکے متوفی کے ورثاء کو ان کے قانونی حق سے محروم کردیا، اس سے صاف لگتا ہے کہ پولیس نے پہلے ہی سے طے کرلیا تھا کہ امریکی سفارت کار کو قانونی طور پر ریلیف دینا ہے، ایسا کیوں کیا گیا اور اس کا حکم کس نے دیا، اس کا جائزہ کون لے گا،
یہاں تو سب امریکی غلامی میں گوڈے گوڈے دھنسے ہوئے ہیں، اب یہ کہانی گھڑی جارہی ہے کہ امریکی سفارت کار کو واقعہ کے بعد حراست میں لیا گیا تھا، لیکن جب سفارت کار کی شناخت ہوئی تو استثنا کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا، جبکہ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ اسی وقت کرنل جوزف کو جانے دیا گیا۔ عجیب باتیں ہیں ہمارے پیارے دیس کی، بھارت میں خفیہ ایجنسیاں ہمارے سفارت کاروں کا پیچھا کرتی ہیں، ان سے بغیر کسی جرم کے مجرموں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے، ان کی معمول کی زندگی میں بھی مداخلت کی جاتی ہے، وہاں یہ سفارتی استثنا کہاں چلا جاتا ہے؟ یہاں خاص طور پر امریکی سفارت کار دندناتے پھرتے ہیں، اقوامِ متحدہ کے کس چارٹر میں لکھا ہے کہ سفارت کاروں کو ملک کا قانون توڑنے کی بھی اجازت ہوگی، ایسی بات بھلا ایک مہذب دنیا میں کیسے گوارا ہوسکتی ہے؟ کل کلاں کوئی امریکی اسلام آباد کے کسی بھرے بازار میں آکر فائر کھول دے تو کیا اس کے اس عمل کو بھی سفارتی استثنا حاصل ہوگا؟ ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی تو خود امریکہ میں نا قابل معافی جرم ہے، وہ اس کا اگر پاکستان میں دھیان نہیں رکھتے تو خود امریکی سفارت خانے کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ابھی چند روز پہلے ملتان کے قریب چینیوں نے جس طرح پاکستانی قوانین کی دھجیاں اڑائیں اور پولیس کو گاڑی میں چھپنے پر مجبور کردیا، اس نے پاکستان کو ایک ایسا ملک بنا دیا ہے جس کی غیر ملکیوں کے نزدیک کوئی عزت نہیں۔ اِدھر ہمارا وزیراعظم امریکہ جاتا ہے تو قانون کی پاسداری میں کپڑے اترواکر تلاشی دیتا ہے، وہاں کوئی استثنا کیوں نہیں دیا جاتا؟ ملک کا سب سے بڑا حکومتی عہدہ کھنے والا اگر کسی رعایت کا مستحق نہیں تو ہم نے للو پنجو قسم کے امریکیوں اور چینیوں کو کیوں سر پر چڑھا رکھا ہے، یہ کیسی خوئے غلامی ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی؟ چینیوں کے واقعہ نے تو واقعتاً خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، وہ تو پاکستان کے قانون کو ہی جوتی کی نوک پر رکھنے لگے ہیں، ملتان میں دو واقعات ہوچکے ہیں، ستم ظریفی یہ ہے کہ پولیس ان کی بھلائی کے لئے انہیں روکتی ہے اور وہ بگڑے بچوں کی طرح پولیس پر چڑھ دوڑتے ہیں۔پہلا واقعہ بستی ملوک کے علاقے میں پیش آیا تھا جب وہاں مقیم چینیوں کو پولیس نے بلا اجازت نقل و حرکت سے روک دیا تھا، کیونکہ سیکیورٹی کی وجہ سے ضروری تھا۔ انہوں نے اس کا برا منایا اور پولیس اہلکاروں سے الجھ پڑے،
اعلیٰ افسروں کو کھڈے لائن لگا دیا اور بعض تو نوکری سے ہی گئے، اب جو ملتان کا واقعہ ہے وہ تو انتہائی خطرے کی گھنٹی بجا گیا ہے، چونکہ خادم اعلیٰ پہلے ہی چینیوں سے ٹکر لینے والے پولیس ملازمین کو نشانِ عبرت بنا چکے ہیں، اس لئے اس بار انہوں نے چینیوں سے لڑنے کی بجائے گاڑی میں چھپ جانے ہی میں عافیت سمجھی، اب یہ تو وہاں موجود لوگ تھے جنہوں نے تھوڑی بہت اس بات کی لاج رکھی کہ پاکستان کوئی یتیم ملک نہیں، نہ ہی کسی ملک کی نو آبادی ہے، انہوں نے چینیوں کے خلاف مزاحمت کی، ایک چینی پولیس موبائل کے بونٹ پر چڑھ گیا تھا اور اس کے پاؤں تلے پاکستانی پرچم بھی بنا ہوا تھا جو عوام کے غصے کو ہوا دیتا رہا، وہ پنجاب پولیس جو ہر پاکستانی پر بوقت ضرورت ظلم کے پہاڑ توڑتی ہے، بد معاشوں کو نشانِ عبرت بنا دیتی ہے، آخر اسے کس نے چینیوں کے سامنے بھیگی بلی کا کردار ادا کرنے پر مجبور کیا اور کچھ نہیں تو غیرت و حمیت کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں، انہیں تو ہر حال میں پورا کیا جانا چاہئے۔پاکستان کا دفتر خارجہ صرف طفل تسلیاں دیتا ہے۔ امریکی کرنل جوزف ایمانویل کے معاملے میں بھی وہ مسلسل طفل تسلیاں دے رہا ہے، امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا ہے،احتجاجی مراسلہ تھما دیا گیا ہے، تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ریمنڈ ڈیوس کو تو پھر بھی پنجاب پولیس نے گرفتار کرلیا تھا اور کئی دن وہ پیشیاں بھی بھگتتا رہا، مگر کرنل جوزف کے معاملے میں تو اسلام آباد پولیس نے اتنا بھی تکلف نہیں کیا کہ تھانہ آب پارہ لے جا کر ٹھنڈی بوتل ہی پلا دیتی تاکہ اتنی عزت تو رہ جاتی کہ پولیس نے امریکی سفارت کار کو تھانے میں بوتل پلانے کی جرأت تو کی ہے۔ اب ہوگا کیا؟۔۔۔ مرنے والے کے ورثاء کو اچھا خاصا معاوضہ مل جائے گا، یا پھر اس کے بہن بھائیوں کو امریکی ویزا دے دیا جائے گا۔ قیمت لگانے کا جو سلسلہ امریکہ نے برسوں سے شروع کر رکھا ہے، اب اسے امریکی سفارت کاروں کے شوقِ ڈرائیونگ کو پورا کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔میرا جی تو چاہتا ہے کہ میں با با رحمتے سے گزارش کروں کہ وہ اس قتل کا بھی نوٹس لیں جو امریکی سفارت کار نے جان بوجھ کر اشارہ توڑ کر کیا، اگر بلوچستان کے ایم پی اے عبدالمجید اچکزئی کے خلاف ٹریفک پولیس کے کانسٹیبل کو گاڑی سے کچلنے پر قتل کا مقدمہ درج ہوسکتا ہے، تو اس واقعہ کو صرف حادثہ کیوں کہا جا رہا ہے؟یہ بھی تو ایک قتل ہے، جو بے شک قتل عمد کے زمرے میں نہ آئے، قتل خطا تو کہلائے گا، اگر اس سفارتی استثنا کے جن کو بوتل میں بند نہ کیا گیا تو نجانے یہ کس کس شکل میں قیامت ڈھائے۔حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اعلیٰ قانونی ماہرین اور سینئر سفارت کاروں
کی ایک کمیٹی بنا کر یہ ذمہ داری سونپے کہ وہ سفارتی استثنا کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کریں کہ سفارتی استثنا کی حدود ہیں کیا، کیا ایسی قانون شکنی کی اس استثنا میں اجازت ہے، ٹریفک کے قانون تو کسی ایک ملک کے نہیں، بلکہ پوری دنیا میں ایک جیسے ہیں، ان کی خلاف ورزی کس زمرے میں آتی ہے؟ ریمنڈ ڈیوس بھی رانگ سائیڈ سے جاتے ہوئے پکڑا گیا تھا اور اب کرنل جوزف نے بھی لال اشارے کی پروا نہیں کی، اس سے بالکل واضح ہے کہ امریکیوں کے نزدیک ہماری کوئی حیثیت نہیں، ہم ان کی نظر میں غلام ہیں جن کے ہر قانون کو توڑنا وہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔۔۔کیا امریکیوں اور چینیوں کو سر چڑھانے کی جو غلامانہ پالیسی ہم نے اختیار کر رکھی ہے، وہ ایک آزاد ملک کے شایانِ شان ہے، کیا خود امریکہ اور چین میں غیر ملکیوں کو یہ مراعات حاصل ہیں کہ وہ جو مرضی کریں اور ملکی قانون حرکت میں نہ آئے، کیا سفارت کاری آداب نہیں سکھاتی، کیا ان پر ایک مہذب شہری کی حدود و قیود لاگو نہیں ہوتیں، کیا ہم بے بسی کی تصویر بنے اپنے شہریوں کو مرتا دیکھ سکتے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ صرف امریکی سفارت کار ہمارے قوانین توڑتے ہیں اور پاکستانیوں کو جان سے مار دیتے ہیں۔اسلام آباد میں بیسیوں سفارت خانے ہیں، مگر کبھی ایسی خبر نہیں آتی کہ کسی ملک کے سفارت کار نے پاکستانی قوانین کو پامال کیا ہو۔کیا یہ امریکیوں کی خاص ذہنیت کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کو سر زمین بے قانون سمجھ لیا ہے، اور ان کی دیکھا دیکھی اب چینی بھی پاکستان کو ایک ایسا ملک سمجھ بیٹھے ہیں، جس کا قانون ان کے نزدیک پانی کے بلبلے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔(م،ش)