وہی ہوا جس کا ڈر تھا: تحریک لبیک کے دھرنا میں مسلح شخص زبردستی داخل، تشویشناک اطلاعات موصول
لاہور(ویب ڈیسک)تحریک لبیک کے دھرنا؛ انتہائی تشویشناک خبر آ گئی۔ تحریک لبیک کے دھرنے میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کرنے والے نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک یا رسول اللہ اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دئیے ہوئے ہے۔دھرنا آٹھویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔تحریک لبیک اپنیمرکزی قیادت اور کثیر تعداد میں کارکنان کے ساتھ وہاں موجود ہے۔ایسے میں تحریک لبیک کے دھرنا؛ انتہائی تشویشناک خبر آ گئی۔تحریک لبیک کے دھرنے میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کرنے والے نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا۔اسلحے سے لیس نوجوان سیکیورٹی حصار توڑ کر دھرنے میں زبردستی داخل ہونا چاہتا تھا جس پر گارڈز نے اسے پکڑ لیا۔تلاشی لینے پر نوجوان سے پستول برآمد ہو گیا۔نوجوان کو مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مذہبی تنظیم تحریک لبیک یارسول اللہ کی جانب سے دھرنا 9ویں روز بھی جاری ہے جس کی وجہ سے جہاں عوام کو مشکلات کا سامنا ہے وہیں اطراف کے علاقوں میں کاروبار بھی ٹھپ ہوگیا ہے۔لاہور میں داتا دربار سے ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک کے مسائل آج نویں روز بھی جوں کے توں ہیں، احتجاجی دھرنے کے باعث لوئرمال کا بڑا حصہ کینٹینرز اور بیرئیرز لگا کر بندکیا گیا ہے جس کی وجہ سے ناصر باغ سے مینار پاکستان کی جانب آنے اور جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند ہے، اسکول، کالجز اور دفاتر آنے جانے والوں کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، ناصر باغ سے ٹریفک عبدالقادر جیلانی روڈ کی طرف موڑ دی جاتی ہے جبکہ سرکلر روڈ کو
بھی بھاٹی چوک سے بند کیا گیا ہے، پیدل آنے جانے والوں کوگرمی میں کئی کئی کلومیٹرپیدل سفرکرنا پڑتا ہے، شہری پریشان ہیں کہ دھرنا کب ختم ہوگا اوران کی مشکل آسان ہوگی۔ دھرنے سے جہاں ٹریفک کے مسائل ہیں وہیں قریبی علاقوں میں کاروباربھی بری طرح سے متاثرہورہا ہے، کربل اگامے شاہ کے قریب فرنیچرکی کئی دکانیں اورمعروف بیکری ہے، مگر گزشتہ 9 روز سے ان کا کاروبارٹھپ پڑا ہے، یہ دکانیں اکثربندرہتی ہیں اگرتھوڑی دیرکے لیے کھل بھی جائیں تو کوئی گاہک نہیں آتا، دکانداروں کے لیے کرایہ ادا کرنا بھی مشکل ہوتا نظرآرہا ہے، دھرنے کے مقام کے بالکل سامنے پرندوں کی مارکیٹ ہے لیکن یہاں بھی ویرانی کے ڈیرے ہیں، دکاندار گاہکوں کے منتظربیٹھے ہیں، داتا دربارکے عقب میں بلال گنج کا علاقہ ہے، یہاں کے مکین بھی سخت اذیت سے دوچارہیں، ان کی مشکلات ختم ہوتی ہیں یا ان میں مزید اضافہ ہوگا اس کا فیصلہ 12 اپریل کو دھرنے والوں کی طرف سے دی گئی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد ہی ہوگا۔(م،ش)
Social Plugin