جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پس پردہ کردار کون تھا ؟ تہلکہ خیز نام سامنے آگیا
ملتان ( ویب ڈیسک) جنوبی پنجاب سے 6اراکین قومی اسمبلی اور 2 پنجاب اسمبلی کے اراکین کا مسلم لیگ (ن) کو چھوڑنا اور نئی سیاسی جماعت ’’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ ‘‘کا اعلان اس پورے خطے میں گزشتہ دو تین دن سے زبان زد عام ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ
معروف تجزیہ نگار شمیم اصغر راؤ اپنے تجزیہ میں لکھتے ہیں۔۔۔ کچھ چیزیں خوامخواہ مسلم لیگ (ن) کے کھاتے میں ڈالی گئی ہیں۔ سابق وزیراعظم میر بلخ شیر مزاری کے بارے میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) میں شامل تھے اور وہ بھی پارٹی چھوڑنے والوں کی پریس کانفرنس میں موجود تھے۔ عوام کو یاد ہوگا کہ صدرپاکستان غلام اسحاق خان نے جب میاں نوازشریف کی حکومت کو برطرف کیا تھا تو اس وقت میر بلخ شیر مزاری کو نگران وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا لیکن عدالت عظمیٰ نے میاں نوازشریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر بحال کردیااور میر صاحب واپس اپنے گھر روجھان ضلع راجن پور پہنچ گئے۔ اس وقت کے بعد میر بلخ شیر زاری کبھی بھی میاں نوازشریف کے حامی نہ رہے۔ حال ہی میں مخدوم شاہ محمود حسین قریشی کی کوششوں سے عمران خان میر بلخ شیر مزاری کی رہائش گاہ پر گئے تھے اور اس موقع پر ان کے پوتے دوست محمد مزاری نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ میر بلخ شیر مزاری کا مسلم لیگ (ن) سے کوئی تعلق نہ تھا۔ مسلم لیگ چھوڑنے والوں کی پریس کانفرنس میں سردار نصراللہ دریشک بھی موجود تھ
جو 2013ء کے عام انتخابات میں پی پی 249راجن پور سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئے تھے جبکہ ان کا ایک بھتیجا احمد علی دریشک پی پی 244ڈیرہ غازی خان سے پاکستا ن تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوا، اسی طرح ان کابیٹا سردار علی رضا دریشک پی پی 247راجن پور سے پاکستا ن تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ دریشک خاندان اقتدار کے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔یہی وجہ تھی کہ وہ حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے کے باوجود اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اور مسلم لیگ (ن) کو جب کبھی ضرورت پیش آئی ووٹ بھی دیتے رہے لیکن اس امر میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ سردار نصراللہ خان دریشک کے صاحبزادوں کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا اور اب بھی ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ چشتیاں سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے رکن طاہر بشیر چیمہ کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے تھا اور اب انہوں نے مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شرکت اختیار کرلی ہے۔ طاہر بشیر چیمہ کے بھائی طارق بشیر چیمہ مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل ہیں اور بہاولپور سے قومی اسمبلی کے رکن ہیں
طاہر بشیر چیمہ خود کو مسلم لیگ (ن) میں اس لیے ایڈجسٹ نہ کرپائے کہ ان کے ساتھ منتخب ہونے والے ایم پی اے احسان باجوہ کی مسلم لیگ (ن) میں زیادہ شنوائی ہے۔ غالباً طاہر بشیر چیمہ کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا کیونکہ ان کے بھائی مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری صاحبان کے انتہائی قریبی اور وفادارساتھی ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ مسلم لیگ چھوڑنے والی رکن پنجا ب اسمبلی سمیرا خان کا تعلق مسلم لیگ (ن ) سے تھا اور وہ خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہوئی تھی۔ ان کے شوہر سمیع اللہ چودھری مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ کارکن ہیںبلکہ پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات بھی ہیں۔ ان کا کہناہے کہ وہ 33 سال سے مسلم لیگ (ن) کی خدمت کر رہے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) نے انہیں کچھ نہیں دیا۔ (بیگم کا رکن پنجاب اسمبلی بن جانا ان کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتا) سمیع اللہ چودھری کو مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے 2008ء اور 2013ء کے عام انتخابات میں ٹکٹ نہ دیا اور اب بھی ٹکٹ ملنے کی کوئی توقع نہ تھی۔تحصیل علی پور ضلع مظفر گڑھ کے رکن قومی اسمبلی باسط سلطان بخاری مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر
جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شامل ہوئے ہیں وہ مخدوم عبداللہ شاہ بخاری کے صاحبزادے ہیں اور مخدوم عبداللہ شاہ بخاری مرحوم خطے کے معروف سیاستدان تھے۔ تقریباً ایک سال قبل ان کا انتقال ہواتو وہ اس وقت مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے کافی حد تک شاکی تھی۔ حالانکہ ان کے دوسرے صاحبزادے سید ہارون سلطان بخاری اس وقت پنجاب اسمبلی کے رکن اور صوبائی وزیر ہیں۔ مخدوم عبداللہ شاہ بخاری کی وفات کے بعد دونوں بھائیوں میں اختلافات اس قدر شدت اختیار کرگئے کہ وہ دونوں آج ایک دوسرے سے ملاقات کے بھی روادار نہیں۔ یہ امکان بھی ظاہرکیاجارہا تھا کہ سید باسط سلطان بخاری چونکہ حلقہ میں بہت کم نظرآتے تھے اس لئے اکثریت کا خیال تھا کہ اس مرتبہ پارٹی ان کو ٹکٹ بھی نہیں دے گی سید باسط سلطان بخاری کے بارے میں سوشل میڈیا پر یہ سب کچھ بھی وائرل ہوتا رہا کہ سید باسط سلطان جس کسی کو ملیں ان کے حلقہ میں اطلاع دی جائے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سید ہارون سلطان کو پارٹی نے یہ گرین سگنل دے دیا تھا کہ وہ آئندہ قومی و صوبائی دونوں نشستوں پرالیکشن لڑیں گے اور یہی بات پارٹی سے ناراضگی کی وجہ بنی۔
جلال پور پیروالا سے قومی اسمبلی کے رکن رانا قاسم نون بھی نئی جماعت جنوبی پنجاب صوبہ محاذمیں شامل ہوئے ہیں ان کے بارے میں مشہور ہیں کہ وہ کسی ایک پارٹی میں زیادہ عرصہ نہیں ٹھہرتے۔ رانا قاسم نون چودھری پرویز الٰہی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے لیکن 2013ء کے انتخابات کے بعد وہ پہلے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے اور پھر لفٹ نہ ملنے پر دوسری پارٹیوں سے رابطے بڑھا رہا تھے کہ دیوان عاشق حسین بخاری نااہل قرار دیئے گئے، ان کی خالی کردہ نشست پر الیکشن لڑنے کیلئے مسلم لیگ (ن) نے رانا قاسم نون کو ٹکٹ دیااور اس کے ساتھ اس علاقے کے تمام سیاسی دھڑوں کو کسی نہ کسی طورپر رضا مند کرلیا کہ وہ رانا قاسم نون کی حمایت کریں جس کے نتیجے میں وہ ایم این اے بنے لیکن اب انہوں نے ایسی جماعت میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جس کا فوری طور پر کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔ ضلع رحیم یار خان سے قومی اسمبلی کے رکن خسروبختیارکا مسلم لیگ (ن) چھوڑ جانا کسی کیلئے بھی حیرانگی کا باعث نہیں بنا کیونکہ وہ لگ بھگ عرصہ 3سال سے پارٹی سے ناراض چلے آرہے ہیں کہا جاتا ہے کہ وہ وزیر خارجہ بننا چاہتے تھے
لیکن وزارت نہ ملنے پر ناراض ہوئے اور ہر دو چار ماہ بعد یہ خبریں چھپتی رہتی تھیں کہ وہ مسلم لیگ (ن) چھوڑ رہے ہیں لیکن انہوں نے پارٹی کو اس وقت چھوڑا ہے جب موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے میں صرف تقریباً ڈیڑھ ماہ رہ گیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سرائیکی صوبہ یا جنوبی پنجاب کے نام پر سیاست تو ماضی میں بھی بہت ہوتی رہتی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے گزشتہ عام انتخابات کے موقع پر بھی اس خطے کا سب سے اہم ایشو سرائیکی صوبہ ، جنوبی پنجاب صوبہ اور بہاولپور صوبہ رہا ہے اور اب تقریباً پانچ سال بعد اس ایشو کو ایک بار پھر زندہ کیا گیا۔ جتنے سیاسی رہنماؤں نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا اعلان کیا ہے ان میں سے کبھی کسی نے اس سلسلے میں مؤثر آواز نہیں اٹھائی اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید جاوید علی شاہ کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ گزشتہ تقریباً پانچ سالوں میں یہ سیاسی رہنما اسمبلی میں کوئی ایک ایسا خطاب دکھا دیں جس میں انہوں نے سرائیکی صوبہ یا جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی بات کی ہو۔اس سلسلے میں تازہ ترین
اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے اس خطے کے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں اور واضح طورپر کہا ہے کہ انہیں جنوبی پنجاب یا بہاولپور کو صوبہ بنانے میں کبھی بھی کوئی اعتراض نہیں رہا لیکن صوبے بنانے کیلئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے جو مسلم لیگ (ن) کے پاس پہلے موجود نہیں تھی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد اگر مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی ملتی ہے تو پاکستان کے عوام دیکھ لیں گے کہ اس سلسلہ میں واضح پیش رفت ہوگی۔ جنوبی پنجاب میں اس بات پر شدید حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے کہ صوبہ محاذ بنانے والے مختلف الرائے افراد اکٹھے کیسے ہوئے ، ان کا ماضی میں کبھی رابطہ سامنے نہ آیا اور اس بات پر بھی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ پس پردہ ان لوگوں کو اکٹھا کرنے والا کردار کس کا ہے؟ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ اسی ماہ کے اختتام تک یہ تمام آلہ ء کار لوگ جو جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی بات کررہے ہیں اس محاذ کو بھی ترک کر کے پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں گے۔
Social Plugin