عام انتخابات میں کل کتنے روز باقی رہ گئے۔۔۔۔ دلوں کی دھڑکنیں تیز کرنے والی خبر آگئی
کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی نیوز چینل کے پروگرام میں میزبان نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں اب صرف پچاس دن رہ گئے ہیں، نگراں وزیراعظم کی تلاش میں تیزی آگئی ہے، کون سی ایسی شخصیت ہوگی جس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کا اتفاق ہو
تین دن میں نگراں وزیراعظم اور نگراں وزیراعلیٰ کے نام کو حتمی شکل دیں گی، اگر یہ کمیٹی کسی نتیجے پر نہ پہنچی تو نام الیکشن کمیشن کو بھجوائے جائیں گے جو دو دن میں حتمی فیصلہ کرے گا۔ شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ یہ اہم سوال ہے کہ پیپلز پارٹی کیوں چاہتی ہے کہ نگراں حکومت کو انتخابات کروانے کیلئے 90دن ملیں اور ن لیگ کیوں چاہتی ہے کہ نگراں حکومت کو صرف 60دن ملیں، نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف نیب ریفرنسز کے فیصلے پندرہ مئی کی مقررہ تاریخ تک آگئے تو کیا ہوگا۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزیدکہا کہ کراچی میں لوڈشیڈنگ سے لوگ بری طرح متاثر ہیں، جہاں بجلی نہیں جاتی تھی وہاں بھی جارہی ہے اور جہاں جاتی تھی وہاں اور زیادہ جارہی ہے، سوئی سدرن گیس کمپنی اور کے الیکٹرک کے درمیان گیس سپلائی کا تنازع کھڑا ہوا ہے۔ سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلیاں وقت سے پہلے تحلیل ہونے پر نگراں حکومت کا دورانیہ تین ماہ کا ہوگا، پیپلز پارٹی کو توقع ہے کہ ان تین ماہ میں ن لیگ کا تیاپانچہ ہوسکتا ہے، پنجاب میں کارروائیوں کے اشارے بھی مل رہے ہیں جبکہ اس دوران لوڈشیڈنگ بھی زوروں پر ہوگی
جس سے ن لیگ کے ترقی کے دعوؤں کو نقصان پہنچے گا، نگراں حکومت کا طویل دورانیہ پیپلز پارٹی کے لئے بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے، سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کے مقابل آزاد گروپ قائم کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں، پی ایس پی کے رہنما تو اپنا وزیراعلیٰ لانے کے دعوے کررہے ہیں۔ مجیب الرحمٰن شامی کا کہنا تھا کہ ن لیگ کو جس طرح نقصا ن پہنچ رہا ہے اس تناظر میں وہ جلد از جلد انتخابات چاہتی ہے، نگراں وزیراعظم کوئی بہت مضبوط شخص ہونا چاہئے جو تمام رکاوٹوں کے باوجود انتخابات وقت پر کروائے، واجد ضیاء پر جرح سے کیس میں کمزوری پیدا ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود نواز شریف کو سزا ملنے کی توقع ہے، نواز شریف جیل کے اندر بیٹھ کر بھی لیڈ کرنا چاہتے ہیں۔مشیر وزیراعظم برائے خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ انکم ٹیکس میں ریلیف سے صرف 90ارب روپے کا فرق پڑے گا جو ایف بی آر ریونیو کا صرف دو فیصد ہے، مڈل کلاس پاکستانیوں کو ٹیکس میں ریلیف ملے گا تو وہ اس پیسے کو اشیاء کی خریداری پر خرچ کریں گے جن پر ٹیکس ہوتا ہے اس طرح یہ پیسہ ہمیں وہاں سے مل جائے گا، سیلری کلاس کو ٹیکس ریلیف دے
کر انہیں یقین دلاسکتے ہیں کہ آپ کے ساتھ زیادتی نہیں ہورہی ہے، ٹیکس ریلیف دینے کے بعد اتنے لوگ ٹیکس نیٹ میں آجائیں گے جس سے ہم مزید ریونیو جمع کرسکیں گے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی معاشی پالیسیوں کے اثرات سامنے آرہے ہیں، مارچ میں ایکسپورٹ 24.4فیصد سے جبکہ امپورٹ صرف 6فیصد بڑھی ہے، اس سال کی جی ڈی پی گروتھ 5.8فیصد آئی ہے، روپے کو اس کی حقیقی قدر کے مطابق لے آئے ہیں، ہم نے پیسے انڈسٹری، سڑکوں اور انفرااسٹرکچر پر پیسے خرچ کیے ہیں جس سے معیشت کی گروتھ بڑھے گی، آٹھ نو لاکھ ٹیکس نادہندگان کو ایمنسٹی سے فائدہ اٹھانے کیلئے خطوط لکھیں گے، اگلے سال سے جائیداد خرید نے کیلئے ٹیکس دہندہ ہونا ضروری ہوگا، بیس کروڑ کے ملک میں صرف بارہ لاکھ ٹیکس فائلرز مناسب نہیں ہے، یہ مناسب نہیں کہ تنخواہ دار طبقہ سے تیس فیصد ٹیکس لیا جائے اور دو لتمند وں سے ٹیکس نہیں لیا جائے،ایمنسٹی اسکیم کو اگلے چند دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کر یں گے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی ایمنسٹی کمیٹی کے ارکان سے بھی رابطے میں ہیں، ایمنسٹی اسکیم ایسی فول پروف کردیں گے جس میں کسی کو ڈر نہیں ہونا چاہئے،
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہماے لئے بڑا پرابلم تھا اگلے چند ماہ میں قابو پالیں گے، روپے کی قدر کم کرنے سے ایکسپورٹ میں اضافہ ہوگا۔ شاہزیب خانزادہ نے اپنے تجزیئےمیں کہا کہ نواز شریف نہ صرف جے آئی ٹی پر تنقید کررہے ہیں بلکہ احتساب عدالت کی کارروائی پر بھی سوالات اٹھارہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ اس عدالتی ٹرائل کا مقصد انہیں سزا دلانا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز شریف اس جے آئی ٹی کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں جس کی سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل کے اعلان کا ن لیگ کے رہنماؤں نے خیرمقدم کیا تھا، اسے اپنے موقف کی فتح قرار دیا تھا حالانکہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں واضح طور پر تحریر تھا کہ جے آئی ٹی میں کون کون سے اداروں کے افسران شریک ہوں گے، جے آئی ٹی جیسے جیسے اپنا کام کرتی رہی ن لیگ کے رہنماؤں کے تحفظات اور اعتراضات سامنے آنے لگے، سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد نیب ریفرنسز کی احتساب عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو نواز شریف سمیت ن لیگ کے رہنماؤں نے جے آئی ٹی کے اراکین اور ان کی شمولیت کے طریقہ کار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اپنے خلاف انتقامی کارروائی قرار دیا۔
شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ حکومت نے گزشتہ ہفتے ایک بڑی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متعارف کروائی مگر اب سوال پیدا ہورہا ہے کہ کیا لوگ اس صورتحال میں ایمنسٹی اسکیم کا فائدہ اٹھائیں گے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس کی مخالفت کردی ہے ،یہ اسکیم پارلیمان میں قانون سازی کے بجائے آرڈیننس کے ذریعہ آرہی ہے کیا لوگ اس پر اعتماد کریں گے۔ ترجمان کے الیکٹرک سعدیہ دادا نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کافی عرصے سے ایس ایس جی سی کے ساتھ جی ایس اے سائن کرنے کی کوشش کررہی ہے، کے الیکٹر ک اور سوئی سدرن کے درمیان معاہدہ آج نہیں ہے تو پچھلے برسوں میں بھی نہیں تھا، سوئی سدرن پچھلے سال گرمیوں میں کے الیکٹرک کو 166 جبکہ 2016ء میں 193ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کررہی تھی، کے الیکٹرک کو اس وقت 190 ایم ایم سی ایف ڈی گیس درکار ہے جبکہ ہمیں صرف 90 ایم ایم سی ایف ڈی مل رہی ہے، گیس فراہمی کی صورتحال بہتر ہوئے بغیر پانچ سومیگاواٹ کا شارٹ فال پورا نہیں کرسکتے ہیں۔ سعدیہ دادا کا کہنا تھا کہ ای سی سی کی ڈائریکشن کے مطابق کے الیکٹرک کو 276ایم ایم سی ایف ڈی کوٹہ مختص کیا گیا ہے
لیکن اس مقدار پر رضامندی ہوپارہی جس کی وجہ سے جی ایس اے سائن نہیں ہورہا ہے، سوئی سدرن کی رضامندی کے بغیر ہم یکطرفہ طور پر جی ایس اے سائن نہیں کرسکتے ہیں، سوئی سدرن کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں تمام معاملات سے آگاہ کردیا تھا، اس میٹنگ میں ہمارے سامنے شرائط کا پلندہ رکھا گیا، ہم آج بھی باہمی رضامندی اور شرائط سے جی ایس اے سائن کرنے کیلئے تیار ہیں، سوئی سدرن کو چھ ارب روپے سیکیورٹی ڈپازٹ جمع کرانے کیلئے تیار ہیں۔سعدیہ دادا نے بتایا کہ بقایا جات کا معاملہ عدالت میں ہے، سوئی سدرن واجبات کی مد میں جو رقم کلیم کررہا ہے اس میں 60ارب روپے مارک اپ یا ایل پی ایس کے حوالے سے ہے جس کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے،کے الیکٹرک اسے ایک طرف کر کے 13.7 ارب روپے کی ادائیگی کرنے کیلئے پیمنٹ پلان بنانے پر تیار ہیں، کے الیکٹرک کے مختلف حکومتی محکموں پر بقایا جات ہے، واٹربورڈ نے کے الیکٹرک کو 32ارب دینے ہیں جس میں کوئی مارک اپ شامل نہیں ہے، اس کے باوجود کے ڈبلیو ایس بی کو بلاتعطل بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ سعدیہ دادا نے کہا کہ لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کیلئے تمام دستیاب سورسز استعمال کررہے ہیں،
کے الیکٹرک بجلی کی زیادہ تر پیداوار اس وقت فرنس آئل پر کررہا ہے، کے الیکٹرک کے جو پلانٹ اس وقت بندش کا شکار ہے وہ گیس پر چل سکتا ہے، ہمارے جو پلانٹس ایچ ایف او ر گیس پر ہیں اس میں تقریباً 600میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے، شہر کو اس وقت 2200میگاواٹ بجلی سپلائی کی جارہی ہے، ہمیں روزانہ 500سے 700میگاواٹ شارٹ فال کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اضافی لوڈشیڈنگ کررہی ہے، ہمارا شارٹ فال گیس کی کمی کے باعث ہے ،اگر گیس نہیں ہوگی تو پانچ سو میگاواٹ کا پلانٹ آپریشنل نہیں ہوگا۔ سماجی کارکن ناظم حاجی نے کہا کہ کراچی میں بجلی کا بحران صرف سوئی سدرن کی وجہ سے نہیں ہے، کے الیکٹرک کے بن قاسم پاور پلانٹ میں چھ یونٹس لگے ہوئے ہیں جس کی پیداواری استعداد 1320میگاواٹ ہے، کے الیکٹرک اس میں سے صرف دو یونٹس گیس پر چلارہی ہے، کے الیکٹرک مزید دو یونٹس فرنس آئل پر چلاسکتا ہے مگر چونکہ فرنس آئل پر پلانٹ چلانے سے منافع کم ہوگا اس لئے ان یونٹس کو نہیں چلایا جارہا ہے، کے الیکٹرک اگر فرنس آئل پر پلانٹ چلائے تب بھی انہیں منافع ہوگا، کے الیکٹرک ایک پلانٹ بھی فرنس آئل پر نہیں چلارہی ہے،
دو آئی پی پیز گل احمد اور ٹپال فرنس آئل پر چل رہے ہیں جو کے الیکٹرک کو دس روپے فی یونٹ بجلی سپلائی کررہے ہیں، ایک یونٹ مینٹیننس کے نام پر بند کردیا گیا ہے حالانکہ اس کی مینٹیننس سردیوں میں کرلی جانی چاہئے تھی۔ ناظم حاجی نے شاہزیب خانزادہ سے کہا کہ آپ اپنی تحقیقاتی ٹیم میرے ساتھ بھیج دیں ، ہم انجینئرنگ اور کے الیکٹرک کے نمائندوں کے ساتھ بن قاسم پاور پلانٹ جاکر دیکھ لیں گے کہ کتنے پلانٹ گیس پر چل رہے ہیں، کتنے پلانٹ فرنس آئل پر چل سکتے ہیں لیکن نہیں چل رہے اور مینٹیننس کیلئے جو شٹ ڈاؤن کیا ہے وہ صحیح بات ہے یا نہیں ہے۔ ناظم حاجی کا کہنا تھا کہ سوئی سدرن اور کے الیکٹرک کے درمیان ایشو حل ہوجانا چاہئے، سوئی سدرن جی ایس اے کی بات بالکل صحیح کررہا ہے، جو ادارے سوئی سدرن کی شرائط سے متفق ہیں انہیں وہ گیس دے رہے ہیں، کے الیکٹر کو منافع ہورہا ہے تو اپنے صارفین سے تعاون کرنا چا ہئے، کے الیکٹرک فرنس آئل پر بجلی پیدا کرے تو بارہ روپے فی یونٹ سے زیادہ خرچہ نہیں ہوگا جبکہ صارفین سے یہ اٹھارہ روپے فی یونٹ لیتے ہیں، کے الیکٹرک فرنس آئل پلانٹس چلا کر لوڈشیڈنگ کم کرے، نیپرا کو پندرہ دن بعد کراچی میں لوڈشیڈنگ کا خیال آیا۔
Social Plugin