سپریم کورٹ کا نواز شریف اور جہانگیر ترین کی تا حیات نااہلی کا فیصلہ۔۔۔ مگر فیصلے سے قبل سماعت کے دوران نامور قانونی ماہرین نے جج صاحبان کو کس کس طریقے سے متاثر کرنے کی کوشش کی؟ دنگ کر ڈالنے والی خبر آ گئی
سپریم کورٹ کا نواز شریف اور جہانگیر ترین کی تا حیات نااہلی کا فیصلہ۔۔۔ مگر فیصلے سے قبل سماعت کے دوران نامور قانونی ماہرین نے جج صاحبان کو کس کس طریقے سے متاثر کرنے کی کوشش کی؟ دنگ کر ڈالنے والی خبر آ گئی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نااہل ارکان پارلیمنٹ کے انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی کا سخت فیصلہ دیا۔
جج صاحبان کو آئینی اور قانونی ماہرین کے دلائل بھی متاثر نہیں کر سکے۔ انہوں نے اپنی معاونت کے لئے طلب کئے گئے دونوں ماہرین منیر اے ملک اور سید علی ظفر کے موقف سے بھی اتفاق نہیں کیا جنہوں نے تاحیات پابندی عائد کئے جانے کی مخالفت کی تھی۔ ان کے دلائل اور دعوئوں کا متفقہ فیصلے میں ذکر کیا گیا ہے۔ منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ آئین کی تشریح کا یہ طے شدہ اصول ہے کہ اسے مجموعی حیثیت میں پڑھا جائے۔ بنیادی حقوق کا باب آئین کے قلب میں اور انتخاب لڑنے کے حق کا ذکر بھی اسی میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل۔ 62جہاں اہلیت طے کرتا ہے وہیں آرٹیکل۔63 نااہلیت کی وضاحت کرتا ہے۔ دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ دوسری جانب سید علی ظفر کی رائے میں موجودہ شق دراصل اس بات کا کھوج لگانے کے لئے سفر ہے، جہاں آئین خاموش ہے۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو آرٹیکل ۔62 (1)(f) کے تحت نااہلیت مستقل اور ایک انتہا کو ظاہر کرتی ہے۔
دوسری جانب ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ پابندی ایک انتخابی مدت کے لئے ہو سکتی ہے یعنی5سال کے لئے ہو۔ تیسرا موقف یہ ہے کہ ان دو انتہا کے درمیان کی مدت طے کی جائے جسے عدالت مناسب سمجھے۔ علی ظفر کا کہنا تھا کہ ایک شخص جو اخلاق باختگی کے جرم کا مرتکب ہوا، اسے سزا کے5 سال مکمل ہونے پر رہائی کے بعد انتخاب لڑنے کا حق ہے تو لہٰذا بے ایمانی کے مرتکب شخص کو انتخابی عمل میں شرکت سے زندگی بھر کے لئے نہیں روکا جا سکتا۔ معروف قانون داں عاصمہ جہانگیر مرحومہ کے دلائل بھی رائے حسن نواز کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک کیس کے فیصلے کا حصہ ہیں۔
0 Comments