ایک بار میں نے نواز شریف سے کہاشیریں رحمان

ایک بار میں نے نواز شریف سے کہا آرٹیکل 62ون ایف ہٹا دیں تو انہوں نے کیا جواب دیا ؟ شیریں رحمان کا تہلکہ خیز انکشاف


ایک بار میں نے نواز شریف سے کہا آرٹیکل 62ون ایف ہٹا دیں تو انہوں نے کیا جواب دیا ؟ شیریں رحمان کا تہلکہ خیز انکشاف
کراچی (ویب ڈیسک)نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئےسینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ،



آرٹیکل 62/1Fہٹانے کیلئے کئی دفعہ نواز شریف سے کہا مگر انہوں نے نظرانداز کردیا، اس وقت اقتدار کے نشے میں ان کی آنکھوں پر چربی چڑھی ہوئی تھی، نواز شریف کی ذات جمہوریت سے منسلک نہیں ہے، نئی حکومت آنے کے بعد آمر کی آئین میں شامل شقوں پر بات کریں گے ،سندھ میں ہمارے خلاف احتساب نیب کا ڈیلکس پیکیج نہیں ہے، نواز شریف پروٹوکول میں نیب عدالت آتے ہیں اور پھر خود کو سیاسی شہید قرار دیتے ہیں، جب آپ عدالتوں میں جائیں گے تو فیصلے بھی تسلیم کرنا پڑیں گے، پیپلز پارٹی نے جمہوریت کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں، آصف زرداری نے بارہ سال نواز شریف کے بنائے مقدمات میں جیل کاٹی ہے، نواز شریف پارلیمان کی بے توقیری نہ کریں، ن لیگ اور پی ٹی آئی دونوں پارلیمان کو بے حرمت کرچکے ہیں، پارلیمان کو نواز شریف اپنی ذات کیلئے استعمال نہ کریں، جمہوریت ٹشو پیپر نہیں اسے اپنی ذات کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ وزیرمملکتبرائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ آمریت کے دور کے قوانین نہ بدلنا ہماری غلطی تھی، ایک آمر جس طرح آئین کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتا ہے یہ تمام قوانین اسی طرح پارلیمان سے باہر نکالنے چاہئے تھے،
سیاسی جماعتوں کو غلطی پر غلطی نہیں دہرانی چاہئے، ن لیگ کی حکومت کا استقبال دھرنے سے کیا گیا، سیاسی جماعتیں گزرتے وقت کے ساتھ سیکھتی اور فیصلے کرتی ہیں، نواز شریف کا ووٹ کو عزت دو کا نعرہ دوبارہ وزیراعظم بننے کیلئے نہیں ہے، ہم وہ روایت ختم کرنا چاہتے ہیں جو پچھلے ستر سال میں منتخب وزرائے اعظم کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ قانون سازی اورآئین میں ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے، آمر کے دور میں بنے ہوئے کالے قانون کو پارلیمنٹ کے ذریعے ختم کیا جائے گا، موجودہ پارلیمنٹ آمر کے قانون ختم نہ کرسکی تو آنے والی پارلیمنٹ ختم کرے گی، منتخب وزرائے اعظم کو گھر بھیج دیا جاتا ہے مگر آئین توڑنے والا باہر بیٹھ کر اپنی منشاء کے مطابق اپنے کیس کی پیروی کررہا ہے، پارلیمان کے فیصلے پارلیمان کے اندر ہونے چاہئیں۔ پروگرام میں ماہرین قانون فروغ نسیم ، علی ظفراور کامران مرتضیٰ نے بھی اظہار خیال کیا۔ماہر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ آرٹیکل 62/1Fکی تشریح کرتے ہوئے عدالت نے بہت اچھا فیصلہ لکھا ہے، عدالتی فیصلہ یہ نہیں کہتا کہ نااہلی تاحیات ہے بلکہ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ عدالت نے اگر،


کسی شخص سے متعلق صادق اور امین نہ ہونے کا ڈیکلریشن دیا ہے تو جب تک وہ ڈیکلریشن موجود رہے گا اس وقت تک 62/1Fکی نااہلی رہے گی، نواز شریف پاناما ٹرائل میں بری ہوجاتے ہیں تو وہ سپریم کورٹ سے انہیں صادق اور امین نہ قرار دینے کا ڈیکلریشن واپس لینے کا کہہ سکتے ہیں، نواز شریف کو سزا ہوگئی تو عدالتی ڈیکلریشن برقرار رہے گا۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ عدالت نے فیصلے میں پارلیمان کے اختیارات پر بات نہیں کی، پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت سے 62/63ختم تو کرسکتی ہے لیکن پھر اس میں کچھ پیچیدگیاں ہوں گی، این آر او فیصلے کے تحت کرمنل سزا کو کسی آرڈیننس یا قانون سے ختم نہیں کیا جاسکتا ہے، فی الحال صورتحال یہ ہے کہ نواز شریف کے خلاف جب تک عدالتی ڈیکلریشن رہے گا وہ نااہل رہیں گے۔ماہر قانون بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین کی کسی شق پر بحث ہورہی ہو تو اس کی تشریح کرنا عدالت کا کام ہے، آرٹیکل 62/1Fکی تشریح کرتے ہوئے عدالت کے پاس تاحیات نااہلی کے ساتھ کم از کم پانچ سال نااہلی کے آپشن تھے، عدالت نے پہلا آپشن چنتے ہوئے یہی کہا کہ چونکہ پارلیمنٹ نے قانون بناتے ہوئے ،
نااہلی کی مدت نہیں رکھی اس لئے ہم خود اس میں نااہلی کی مدت نہیں ڈال سکتے اس لئے نااہلی تاحیات ہوگی، عدالتی فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کے پاس آئینی ترمیم کر کے نااہلی کی مدت طے کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے، جب تک آئینی ترمیم نہیں ہوتی عدالتی فیصلہ تبدیل نہیں ہوسکتا ہے، اب چھوٹی سی مس ڈیکلریشن کی سزا بھی تاحیات نااہلی ہوگی، آئین میں تبدیلی کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے عدالت صرف اس کی تشریح کرسکتی ہے، پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کر کے آرٹیکل 62نکال دے تو کوئی عدالت نہیں کہہ سکتی کہ آرٹیکل 62کو آئین میں ہونا چاہئے۔ ماہر قانون کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 62/1Fکے تحت تاحیات نااہلی کے عدالتی فیصلے سے اختلاف رکھتا ہوں، آرٹیکل 62/1Fکے تحت کسی پارلیمنٹرین کی نااہلی اسی الیکشن کیلئے کی جانی چاہئے جس کیلئے اس نے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہوں، عدالت نے اس بنیاد پر نااہلی تاحیات کردی ہے کہ پارلیمنٹ نے مدت کا تعین نہیں کیا، اگر کوئی شخص کسی پارٹی کا رکن ہوسکتا ہے تو اس کا عہدیدار بھی ہوسکتا ہے، میرا ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ ضروری نہیں کوئی شخص جان بوجھ کر اثاثے ظاہر نہ کرے اس سے غلطی بھی ہوسکتی ہے، اس پر تاحیات نااہلی بہت زیادہ سخت ہے۔

Post a Comment

0 Comments