کل میاں نواز شریف اور جہانگیر ترین کے علاوہ ایک اور نامور سیاست دان کو بھی سپریم کورٹ نے نااہل کر دیا ۔۔۔یہ کون ہیں ؟ نام آپ کو حیران کر ڈالے گا
کوئٹہ (ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ نے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمد حنیف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت فیصلہ سناتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمد حنیف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا ۔
دوسری جانب عدالت عظمی نے آئین کے آرٹیکل 62(1)Fکے تحت عوامی نمائندوں کی عدالت کی جانب سے دی گئی نااہلیت کی سزا کی مدت کے تعین سے متعلق دائر کی گئی متعدد درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عوامی عہدہ کے لئے دی گئی نااہلیت کی سزا تاحیات برقرار رہے گی یعنی اس شق کے تحت نااہل ہونے والا شخص عمر بھر ا نتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا ہے، 18ویں ترمیم میں آرٹیکل 62 ایف ون میں نااہلی کیلئے میکنزم فراہم کیا گیا ہے،پارلیمنٹیرین کی نا اہلی مفاد عامہ کا معاملہ ہے،بنیادی حق مجروح نہیں ہوتا،عدالتی فیصلے کی روشنی میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اورپاکستان تحریک انصاف کے سابق رکن قومی اسمبلی جہانگیرخان ترین بھی عوامی عہدہ کے لئے تاحیات ناہل ہو گئے ہیں جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے اپنے علیحدہ نوٹ میں لکھا ہے کہ یہ بھی ایک ستم ظریفی ہے کہ درخواست گزاروں کی ایک بڑی تعدادرکن پارلیمنٹ رہ چکی ہے اور ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ہی آئین میں یہ ترمیم کی ہو، جوکہ آج ان کے راستے میں حائل ہوگئی ہے ، جسٹس شیخ عظمت سعید نے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ میں ساتھی جج ،مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال کے حتمی فیصلے سے تو اتفاق کرتا ہوں لیکن ان کی جانب سے پیش کی گئی وجوہات سے مکمل طورپر اتفاق نہیں کرتا ہوں، انہو ںنے لکھا ہے کہ کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کا موقف درست تھا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کو طے کرنا چاہئے، انہوںنے مزید لکھا ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف میں نااہلیت کی مدت کا تعین نہیں کیاگیا ہے ،
آئین سازوں نے جانتے بوجھتے 62 ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا،فاضل عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آرٹیکل 62(1)F میں نااہلیت کی معیاد کا ذکر موجود نہیں ہے تاہم عوام کو صادق اور امین قیادت ملنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہوتاتو آئین میں لکھا ہوا ہے کہ ایسے شخص کی نااہلیت تا حیا ت رہے گی،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5ر کنی لارجر بنچ نے کیس پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد 14 فروری 2018 کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطا بند یا ل، جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل خصوصی بنچ نے جمعہ کے روز کھلی عدالت میں فیصلہ جاری کیا، اس موقع پر جسٹس سجاد علی شاہ اسلام آباد میں نہ ہونے کے باعث بنچ میں موجود نہیں تھے، 60صفحات پر مشتمل یہ متفقہ فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے اور عدالت میں انھوں نے ہی اس فیصلے کے آپریشنل حصے کو پڑھ کر سنایا جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے 8 صفحات پر مشتمل ایک اضافی نوٹ بھی تحریر کیا ہے،فاضل عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 62(1)F امیدوار کی اہلیت جانچنے کے لیے ہے، اس میں نااہلیت کی معیاد کا ذکر موجود نہیں ہے تاہم عوام کو صادق اور امین قیادت ملنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہوتاتو آئین میں لکھا ہوا ہے کہ ایسے شخص کی نااہلیت تاحیات رہے گی اس لیے جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے،
0 Comments