پیپلز پارٹی نے ملک بھر میں
احتجاج کی کال دے دی
![]() |
پیپلز پارٹی نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی
پیپلز پارٹی نے ملک بھر میں
احتجاج کی کال دے دی، پی پی کی مرکزی قیادت کے اجلاس کے بعد ضلعی تنظیموں کو ہدایات
جاری کر دی گئیں، اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں شرکت ، متحدہ اپوزیشن کیساتھ
ملکر چلنے کی منظوری، بلاول بھٹو ملک گیر رابطہ عوام مہم بھی چلائینگے۔ تفصیلات کے
مطابق پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت نے آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں
احتجاج کی کال دے دی ہے۔
آصف زرداری کی گرفتاری کے
بعد پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت
بلاول بھٹو نے کی۔ اجلاس کے دوران ملک بھر میں احتجاج کی کال دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کے بعد احتجاج کیلئے ضلعی تنظیموں کو ہدایات جاری کر دی گئیں۔
اجلاس میں اپوزیشن
جماعتوں کی اے پی سی میں شرکت ، متحدہ اپوزیشن کیساتھ ملکر چلنے کی منظوری بھی دی
گئی۔
جبکہ فیصلہ کیا گیا کہ بلاول بھٹو ملک گیر رابطہ عوام مہم بھی
چلائینگے۔ اس سے قبل بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایوان ڈپٹی اسپیکر
کا رویہ قابل مذمت ہے ، انہیں فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔حکومت کا رویہ ہے کہ مارتے
بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے۔یہ حکومت سلیکٹڈ میڈیا، سلیکٹڈعدلیہ اور سلیکٹڈ
عدلیہ چاہتی ہے، عدلیہ پر بھی حملہ کیا گیا۔
بلاول نے کہا کہ اس نئے
پاکستان میں مشرف ، ایوب یا پھر ضیاء کے پاکستان میں کیا فرق ہے؟ تب بھی بولنے کی
اجازت نہیں تھی ، آج بھی نہیں ہے۔تب بھی چیف جسٹس کو کورٹ سے نکالنے کی سازش کرتے
تھے آج بھی سلسلہ جاری ہے۔مجھ پر فرض ہے اس جمہوریت ، انسانی حقوق ، غریبوں کے
معاشی حقوق کیلئے جدوجہد کرنا مجھ پر قرض ہے۔ میں نے اسپیکر سے پوچھنا تھا کہ جس کی
نانی پرسرعام حملہ کیا گیا، حاملہ والدہ پرآنسوگیس پھینکی گئی ہو،جس کے ایک ماموں
کوزہردیا گیا ہو، دوسرے کوٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہو، جس کے باپ کو11 سال جیل
میں رکھا گیا ہو اور ان کی زبان کاٹی گئی ہو۔
جس کی والدہ اور نانا کو
شہید کیا گیا ہو۔ یہ سب دیکھنے والا بچہ کیسے ان ہتھکنڈوں سے ڈرسکتا ہے؟ جنہیں
پھانسی گھاٹ اور بم دھماکوں سے نہیں ڈرایا جاسکا، بی بی شہید کے بچے کو جیل اور
گرفتاریوں سے نہیں ڈرایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارے منصفانہ ٹرائل کا حق مجروح
کیا گیا۔ نیب ٹیم بغیر آرڈر زرداری کو گرفتارکرنے پہنچی۔ آصف زرداری نے آج
بطوراحتجاج گرفتاری دی۔
انہوں نے کہا کہ جو بزدل
حکومت ہوتی ہے ، وہ خواتین پر تشدد کرتی ہے، عدلیہ کا مقابلہ نہیں کرسکتی ، توپھر
ججز کو ہٹانے کی کوشش کرتی ہے، بزدل حکومت بلاول بھٹو، شہبازشریف، منظور پشتین،
اسفند یار ولی کسی کی تنقید برداشت نہیں کرسکتی۔ یہ بہت خوفزدہ ہیں، یہ حکومت بجٹ
میں مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان لایا جایا رہا ہے۔ لگتا ہے یہ نہیں چاہتے
پارلیمنٹ چلے۔
ہمارا قومی اسمبلی کا سیشن
چل رہا ہے، کل سے بجٹ پیش ہونا ہے، عوامی مسائل پرباتیں ہوئیں۔ امیروں اور علیمہ
خان کیلئے ایمنسٹی اسکیم جبکہ غریبوں کیلئے مہنگائی ہے۔علیمہ خان کو کلین چٹ مل گئی
ہے۔جہانگیرترین کو کوئی نہیں پوچھے گا، وہ ڈیفیکٹو وزیراعظم ہوگا،علیمہ خان کا
احتساب کہاں ہے؟ صرف اپوزیشن کا احتساب ہونا سیاسی انتقام کہلاتا ہے۔
یہ دوغلانظام ہے۔خان نے
کہا تھا کہ دو نہیں ایک پاکستان، لیکن سب کے سامنے ہے ایک نہیں دوپاکستان ہے۔نیب
کا قانون کالا قانون ہے۔میں نے عید سے قبل اعلان کیا تھا کہ ہم مہنگائی کیخلاف
احتجاجی تحریک چلائیں گے۔پیپلزپارٹی نے حکومت ہٹانے کیلئے ہمیشہ جمہوری حق کی بات کی
ہے،یہ جوپارلیمان اپنی مدت پوری کرے،ہم نے ہمیشہ کوشش کی۔ہماری حکومت نے پہلی بار
پارلیمان کی مدت کو مکمل کیا۔
لیکن حکومت کو چلانا
حکومت کی ذمہ داری ہے ، ان کے پاس حکومت چلانے کیلئے کوئی پالیسی نہیں ہے۔انہوں نے
کہاکہ زرداری اور نوازشریف کو جیل میں کردیا،کرپٹ تواب جیل میں ہیں لیکن ان شفاف
حکومت نے جوپیسا بچایا وہ کہاں ہے؟انہوں نے کہا کہ ہماری دونسلیں شہید ہوئیں، لیکن
ان کوابھی بھی پتا نہیں چلا کہ ہم ڈرنے والے لوگ نہیں ہیں۔انہوں نے جوظلم کرنا ہے
کرلیں۔
بلاول بھٹو نے ایک سوال
پر کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بڑا معصومانہ سوال ہے کہ اگر میں اس کا جواب
دے دوں توآپ کا نہ ٹی وی شو ہے، آپ کا توبلاگ ہی چلے گا۔لیکن اتنا آسان سوال ہے کہ
یہ حکومت انہی نے توبنایا ہے۔سچ تویہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہی سب کچھ چلا رہی ہے۔لیکن
پیپلزپارٹی کی کوشش ہے کہ ان کوقائل کیا جائے کہ جمہوری ملکوں میں فوج تین جگہوں
پر ہوتی ہے۔پاکستان ڈکٹیٹرشپ کا شکار رہ چکا ہے، ہمیں جمہوریت کو مضبوط کرنے میں
ٹائم لگے گا۔مجھے امید ہے کہ پارلیمان اپنی مدت پوری کرے گی۔

0 Comments