معروف اینکر منصور علی
خان نے میرے کپتان لفظ کا ااستعمال ترک کرنے کا اعلان کردیا
میرے کپتان کہنے پر تحریک
انصاف کے کارکنان نے میری کردار کشی کی اور میری فیملی تک کو ہراساں کیا اس لئیے
اس لفظ کا استعمال چھوڑ رہا ہوں ، منصور علی خان
اسلام آباد(-10 فروری 2019ء) : معروف اینکر منصور علی خان نے وزیر اعظم کے
ترجمان کی درخواست اور پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے دھمکیاں ملنے کے بعد میرے
کپتال لفظ کا ااستعمال ترک کرنے کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک
انصاف کی حکومت کو قائم ہوئے کم و بیش 5 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔پاکستان
تحریک انصاف کی حکومت اپنی کارکردگی کے قصیدے سناتے ہوئے نہیں تھکتی جبکہ اپوزیشن
موجودہ دور حکومت کو بدترین انداز حکومت قرار دیتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کرتے
ہیں۔
تاہم حکومت کی جانب سے کئیے
جانے والے فیصلے عوام میں بے چینی پھیل رہی ہے، جس کا اظہار بھی کیا جارہا ہے یہانتک
کے دن رات انکے قصیدے گانے والے صحافی اور تجزیہ کار بھی ان کی حکومت آنے کے بعد
انکے سب سے بڑے ناقد بن گئے ہیں۔
انہی میں سے ایک معروف اینکر
منصور علی خان تھے جو اکثر وزیر اعظم عمران خان کو میرے کپتان کہہ کر مخاطب کرتے
تھے تاہم اب انہوں نے میرے کپتان کا لفظ استعمال کرنا ختم کر دیا ہے اور اس حوالے
سے انکا کہنا تھا کہ جب بھی میں وزیر اعظم عمران خان کو میرے کپتان کہہ کر مخاطب
کرتا تھا تو اس کا مقصد ان کی تضحیک نہیں تھی مگر ان کے چاہنے والوں کی طرف سے اس
کو بھی تضحیک کا رنگ دیا گیا۔
انکا کہنا ہے کہ میرا
مقصد صرف وزیر اعظم کے سامنے ان یوٹرنز کی نشاندہی کرنا تھا جو انہوں نے وزیر اعظم
بننے کے بعد لئیے۔انکا کہنا تھا کہ میرے کپتان کہنا انکی توقیر تھی تضحیک نہیں۔انکا
کہنا تھا کہ میں نے میرے کپتان کہنے کا سلسلہ بغیر کسی ایجنڈے کے شروع کیا مگر پی
ٹی آئی والوں نے اس کو منفی معنے پہنائے۔
انکا کہنا تھا کہ بات میری ذات تک رہتی تو
ٹھیک تھی لیکن میرے بچوں کو بھی ہراساں کیا گیا۔انکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے
ترجمان ندیم افضل چن نے مجھ سے درخواست کی کہ میں میرے کپتان کہنا ترک کردوں کیونکہ
اس سے مذاق کا تاثر جاتا ہے جس میں نے ان کی درخواست قبول کر لی ہے اور میں انکو میرے
وزیر اعظم کہہ کر مخاطب کروں گا۔
|
0 Comments