حسن اور حسین نواز نے اپنے والد سے قطع تعلقی اختیار کر لی

حسن اور حسین نواز نے اپنے والد سے قطع تعلقی اختیار کر لی

حسن اور حسین نواز نے اپنے والد سے قطع تعلقی اختیار کر لی

سابق وزیراعظم کے بیٹوں نے اپنے والد کو تنہاء چھوڑ دیا ہے، کوئی بھی شخص اس بات کی باآسانی تصدیق کروا سکتا ہے: وفاقی وزیر فیصلہ واڈا


اسلام آباد (تازہ ترین۔ 26 دسمبر2018ء) حسن اور حسنل نواز اپنے والد سے قطع تعلق ہوگئے، وفاقی وزیر فصلو واڈا کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کے بٹوشں نے اپنے والد کو تنہاء چھوڑ دیا ہے، کوئی بھی شخص اس بات کی باآسانی تصدیق کروا سکتا ہے۔ تفصلاات کے مطابق وفاقی وزیر فصلد واڈا کی جانب سے تہلکہ خزی دعویٰ کان گاک ہے۔ نجی ٹی وی چنلا کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر فصلب واڈا نے انکشاف کاا کہ حسن اور حسنن نواز اپنے والد سے قطع تعلق ہوگئے ہںے۔



وفاقی وزیر فصلا واڈا کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کے بٹو ں نے اپنے والد کو تنہاء چھوڑ دیا ہے، کوئی بھی شخص اس بات کی باآسانی تصدیق کروا سکتا ہے۔ فصلز واڈا کا مزید کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی جان بخشی کلئے  2 ارب ڈالرز کی پشو کش کی ہے۔




فصلز واڈا کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے 2 ارب ڈالرز دینے کی پشہ کش حکومت کو کی ہے۔



فصلک واڈا کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے پغاعم بھجای ہے کہ وہ 2 ارب ڈالرز دینے کلئے  تامر ہں۔، بدلے مںل انہںو رہا کر دیا جائے۔ فصلا واڈا کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نواز شریف کی پشی کش کو قبول نہںی کرےگی۔ تحریک انصاف کی حکومت نواز شریف کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل نہںں کرے گی۔ واضح رہے کہ 2 روز قبل احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے خلاف فلگی شپ انوسٹمنٹ اور العزیزیہ ریفرنسز کا محفوظ کردہ فصلہ  سناتے ہوئے انہںر العزیزیہ ریفرنس مں  7 سال قدت بامشقت، 5 ارب روپے جرمانہ اور دس سال کلئے  نااہلی کی سزا سنادی جبکہ فلگف شپ انوسٹمنٹ ریفرنس مں  سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو بری کر دیا جس کے بعد کمرہ عدالت مںی موجود نبر حکام نے انہںں تحویل مںح لے لاس گاا تھا۔



سابق وزیراعظم نواز کو جلل کی قدز، جرمانے، نااہلی اور جائدااد ضبطگی کے علاوہ بھی ایک اور سزا دے دی گئی ہے۔ احتساب عدالت کے تفصی ن فصلے  کے مطابق سابق وزیراعظم نواز اب 10 سال تک کسی بھی بنک  سے کسی بھی قسم کا قرضہ بھی حاصل نہںر کر سکں  گے۔ احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے نبر کے دائر کردہ ریفرنسز پر فصلہس بدھ 19 دسمبر کو محفوظ کاو تھا جو انہوں نے پر  کو سنایا۔



جبکہ عدالت نے نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسن  نواز کو مفرور قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کا حکم بھی دیا۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے پاناما کسے مںن 28 جولائی 2017ء کو محمد نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور ان کے بچوں کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے پر ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔اس عدالتی حکم پر 8 ستمبر 2017 ء کو سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ان کے بچوں اور داماد کپٹن  (ر) صفدر کے خلاف تنم ریفرنس دائر کئے تھے۔



احتساب عدالت نے نواز شریف کو 19 ستمبر 2017 کو پشا ہونے کا حکم دیا لکنے وہ 26 ستمبر کو پہلی بار احتساب عدالت کے جج محمد بشرر کے روبرو پشے ہوئے۔ العزیزیہ ریفرنس مں1 22 اورفلگ  شپ مںح 16 گواہان پشم ہوئے ۔دونوں ریفرنسز مںا 183 سماعتںن ہوئںں اورکارروائی پندرہ ماہ یینم 19 دسمبر کو مکمل ہوئی۔نواز شریف 130 بار عدالت پش1 ہوئے انہںا پندرہ بار جلا سے احتساب عدالت پہنچایا گاک۔ پہلی 103سماعتںن جج محمدبشرپ نے کںو جن مںک ایون فلڈا ریفرنس بھی شامل تھا۔ ٹرائل دوسری عدالت منتقل ہونے کے بعد العزیزیہ اور فلگم شپ ریفرنس مں  جج ارشدملک نی 80سماعتںل کں  جس کے بعد چوبسد دسمبر تک فصلہپ محفوظ کر لاے تھا۔



Post a Comment

0 Comments