ملک کی ان ریاستوں میں تیوہارکی طرح منایا جاتا ہے لڑکیوں کا "پہلا پیریڈ"۔
![]() |
PERIODS |
ملک کی ان ریاستوں میں تیوہارکی طرح منایا جاتا ہے لڑکیوں کا "پہلا پیریڈ"۔
پیریڈ (ماہ واری) کو لڑکی کی بلوغت کا آغاز کے طور پرنشاندہی کی جاتی ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں پہلے پیریڈ کو لے کر کئی روایتیں عام ہیں۔پیریڈ (ماہ واری) سے ہرلڑکی کو گزرنا پڑتا ہے۔ پیریڈ کے وقت عورت کے جسم میں ہارمونس ریلیز ہوتے ہیں۔ ان ہارمونس کو سائنس کی زبان میں ایگ (ای جی جی) کہتے ہیں۔ جب یہ ایگ ٹوٹتا ہے تو اس میں جمع خون اورٹشوز وجائینا ( کے ذریعہ جسم سے باہر نکلتے ہیں۔ اس نیچرل (فطری عمل) کو پیریڈ (ماہ واری) کہتے ہیں ۔
پیریڈ کو لڑکی کی بلوغت کا آغاز کے طور پرنشاندہی کی جاتی ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں پہلے پیریڈ کو لے کر کئی روایتیں عام ہیں۔
کرناٹک میں "پہلے پیریڈ" کے دوران گھر اور پڑوس کی عورتیں لڑکی کی آرتی اتارتی ہیں اور گانے گاتی ہیں۔ اس کے بعد لڑکی کو تل اورگڑسے بنی ڈش چگلی اونڈے ( کھانے کےلئے دی جاتی ہے۔ مانا جاتا ہے کہ اسے کھانے سے پیریڈ میں خون کا بہاو بغیر کسی رکاوٹ کے ہوگا۔ اس دوران پوجا میں چڑھائے جانے والے ناریل اورپان کے پتے گھر آئے مہمانوں کو دیئے جاتے ہیں۔
تمل ناڈو میں "پہلے پیریڈ" کے دوران نبھائی جانے والی روایت کرناٹک سے بالکل الگ ہے۔ یہاں کی روایت اعلیٰ سطح پر، دھوم دھام سے منائی جاتی ہے۔ اس روایت کا نام "منزل نرٹوٹ وجہا" ہے۔ یہ رسم کسی شادی کی تقریب کی طرح ہی ادا کی جاتی ہے۔ اس دوران لڑکی کو سلک کی سڑک پہنائی جاتی ہے۔
آسام میں "پہلے پیریڈ" کے دوران نبھائی جانے والی روایت کو "تلونی بیا" کہا جاتا ہے۔ اس دوران لڑکی اہل خانہ سے الگ ایک کمرے میں رہتی ہے، جہاں مردوں کو جانے پرپابندی ہوتی ہے۔ مرد چار دن تک نہ اس کمرے میں جاسکتے ہیں اورنہ ہی اس لڑکی کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ دوجوڑا چھالی کو لال کپڑے میں باندھکرپڑوسی کے یہاں رکھ دیا جاتا ہے۔ 7 شادی شدہ خواتین (جو بیوہ نہ ہو) لڑکی کو نہلاتی ہیں۔ پھر وہ پڑوسی کے گھر میں رکھی
چھالی کی پوجا کرتی ہیں۔ لڑکی کو دلہن کی طرح گہنے اور جوڑے پہنا کر سجایا جا تا ہے۔
کیرل کے کچھ پچھڑے علاقوں میں "پہلے پیریڈ" کے شروعاتی تین دن تک لڑکی کو سب سے الگ رہنا ہوتا ہے۔ اسے ایک ایسے کمرے میں رکھا جاتا ہے جہاں ایک دیا (لیمپ) جل رہا ہو۔ اس دیئے کے پاس پیتل کے ایک برتن میں ناریل کے پھول رکھے جاتے ہیں۔ مانا جاتا ہے کہ اس پھول میں جتنی کلیاں کھلیں گی، لڑکی کو اتنے بچے ہوں گے۔

0 Comments