ذاتی معلومات کے بعد فیس بک نے صارفین کے موبائل نمبر کس کو دیدیئے؟ جان کر آپ فوری اپنا نمبر فیس بک سے ہٹا دیں گے

ذاتی معلومات کے بعد فیس بک نے صارفین کے موبائل نمبر کس کو دیدیئے؟ جان کر آپ فوری اپنا نمبر فیس بک سے ہٹا دیں گے


ذاتی معلومات کے بعد فیس بک نے صارفین کے موبائل نمبر کس کو دیدیئے؟ جان کر آپ فوری اپنا نمبر فیس بک سے ہٹا دیں گے


ذاتی معلومات کے بعد فیس بک نے صارفین کے موبائل نمبر کس کو دیدیئے؟ جان کر آپ فوری اپنا نمبر فیس بک سے ہٹا دیں گے
 نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) فیس بک انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے مختلف نوعیت کے مشتہر اداروں کو صارفین کے موبائل نمبروں تک رسائی دی ہے جو انہوں نے اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں دے رکھے تھے۔نیوز ویب سائٹ ’’ گِز موڈو‘‘ کے مطابق دو امریکی یونیورسٹیوں کے کی
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ 2 صارفین کے موبائل نمبرز کو بار بار ایڈورٹائز منٹ کمپنیوں کی جانب سے ٹارگٹ کیا گیا۔ ان صارفین کے موبائل نمبروں پر مختلف کمپنیوں کی جانب سے بار بار میسج کے ذریعے ایک کوڈ بھیجا گیا اور اکاؤنٹس تک رسائی کے لیے انہیں یہ کوڈ استعمال کرنے کے لیے کہا جاتا رہا ۔ مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ خصوصی پیغامات مختلف کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو بھیجے گئے، محققین کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق ’’ یہ پیغامات صارفین کو وٹس ایپ اور فیس بک میسنجر کی جانب سے بھیجے جاتے ہیں ، جبکہ صارفین فیس بک پر نمبرز ذاتی معلومات کے لیے اپ لوڈ کرتے ہیں لیکن ان نمبروں کو استعمال کرتے ہوئے مختلف مشتہر ادارے صارفین اور انکے ساتھ ساتھ ایڈ لوگوں کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ ‘‘ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’’ سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ تھی کہ فون نمبروں کو اس دوران وہ فون نمبرز بھی مشتہر اداروں کو دیئے گئے جو کسی کے استعمال میں ہی نہیں تھے ‘‘۔ رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ فیس بک مختلف سہارے استعمال کرتے ہوئے صارفین کو نمبروں کو پیسے
بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ فرانسیسی ادارے ایک رکن نے بتایا کہ اس سارے معاملے میں ایسے افراد کو استعمال کیا جاتا ہے جو فیس بک پر بہتر، اپنے ذاتی تجربات کو پیش کرتے ہیں۔ پہلے صارفین کے اپ لوڈ کرتے ڈیٹا سے معلومات حاصل کی جاتی ہے۔ فیس بک اس وقت بڑ ے مالی بحران سے گزر رہا ہے جسکی ایک اہم وجہ صارفین کی جانب سے شیئر کردہ معلومات کی حفاظت نہ کرنا ہے ۔ واضح رہے کہ رواں برس مارچ میں یہ اسکینڈل سامنے آیا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے امریکا و برطانیہ میں کنسلٹنسی کا کام کرنے والی کمپنی ’ کیمبرج اینالاٹکا‘ (سی اے) کو 5 کروڑ صارفین کی ذاتی معلومات فراہم کی تھی۔فیس بک کی جانب سے کیمبرج اینالاٹکا کو فراہم کی گئی معلومات زیادہ تر امریکی صارفین کی تھی، جسے 2016 میں امریکی انتخابات میں استعمال کیا گیا۔اس اسکینڈل کے بعد فیس بک کے خلاف تحقیقات شروع کی گئی تھی اور کمپنی کے سربراہ مارک زکر برگ پہلی بار سینیٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے، جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ان کی کمپنی نے ڈیٹا دیگر کمپنیوں کو فراہم کیا۔

Post a Comment

0 Comments