اصغر خان کیس میں بڑی پیش رفت : ایف آئی اے نے 6 بڑی شخصیات کو طلب کر لیا

اصغر خان کیس میں بڑی پیش رفت : ایف آئی اے نے 6 بڑی شخصیات کو طلب کر لیا


اسلام آباد (ویب ڈیسک)وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے ) نے 6افراد کو کراچی آفس طلب کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کو رقم ادائیگی سے متعلق یونس حبیب کے بیان کی تحقیقات کا فیصلہ کرلیا۔ہفتہ کو نجی ٹی وی کے مطابق اصغر خان کیس میں پیش رفت ہوئی، ایف آی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے


چھ افراد کو کراچی آفس طلب کرلیا ہے۔ یونس حبیب، یوسف میمن اور آفاق احمد کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی، جام معشوق، جام حیدر اور امتیاز شیخ کو بھی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا گیا۔تمام افراد کو اصغر خان کیس سے متعلق ریکارڈ اور دستاویزات ساتھ لانے کا حکم دیا۔ ایف آئی اے نے شہباز شریف کو رقم ادائیگی سے متعلق یونس حبیب کے بیان کی تحقیقات کا فیصلہ کیا، یونس حبیب نے 2012میں انٹرویو میں کہا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو 25لاکھ روپے ادا کئے، یوسف میمن کے جاوید ہاشمی کو رقم ادائیگی سے متعلق بیان کی تحقیقات کی۔یاد رہے کہ ایف آئی اے نے اصغر خان کیس کی تحقیقات کیلئے سربراہ کمیٹی کا تعین کر لیا۔ ذرائع کے مطابق اصغر خان کیس تحقیقات میں کمیٹی کیلئے گریڈ 21 کے ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے احسان صادق کا نام فائنل کیا گیا ہے۔ احسان صادق کی مشاورت سے کمیٹی کے دیگر نام فائنل کئے جائیں گے۔اصغر خان کیس کی تحقیقات کیلئے نئی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جلد جاری ہونے کا امکان ہے۔جبکہ گزشتہ روز اصغرخان کیس میں ایف آئی اے کی پروگریس رپورٹ کے مطابق سینئر سیاست دان جاوید ہاشمی کے ذاتی بینک اکائونٹ میں 2کروڑ 70لاکھ روپے براہ راست منتقل کئ

گئے، ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ رقم یوسف میمن کے ذریعے منتقل ہوئی، جنہیں مبینہ طور پر 7کروڑ ان سیاستدا نو ںمیں تقسیم کرنے کیلئے دیئے گئے تھے جنہوں نے آئی ایس آئی سے براہ راست وصولی سے انکار کیا تھا۔ ایف آئی اے نے اکائونٹس کا جو مکمل تجزیہ دیا ہے اس کے مطابق 19کلیدی ملزمان میں نواز شریف بھی شامل ہیں۔ جاوید ہاشمی نے اپنے بیا ن میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے آئی ایس آئی یا کسی غیر قانونی ذریعہ سے رقم وصول نہیں کی۔ 1990-91 میں ان کے اکائونٹ میں دو کروڑ 77لاکھ روپے کا روباری منتقلی کے حوالے سے ٹیلی گرافک ٹرانسفر تھا جو یوسف میمن کے ساتھ کاروبار کا نتیجہ تھا۔ جبکہ ایف آئی اے کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے تجزیہ کے مطابق تمام اکائونٹس سیاستدانوں کو رشوت دینے کیلئے استعمال ہوئے۔ اپنے ذاتی اکائونٹ سے جس سیاست دان نے رقم وصول کی وہ جاوید ہاشمی تھے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جاوید ہاشمی اپنا یوسف میمن سے کاروباری تعلق قائم کر سکتے ہیں۔ اب تک کی گئی تحقیقات کی روشنی میں غیر قانونی رقوم کا بڑا حصہ یونس حبیب کےذریعہ منتقل ہوا۔ جنرل (ر) اسلم بیگ اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کی جانب سے تفصیلات کی فراہمی کے بعد ہی ا نکوائری کو حتمی شکل دی جائے گی۔

ایف آئی اے تفتیش کاروں کے مطابق یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ اس وقت حبیب بینک کے صوبائی سربراہ یونس حبیب نے اپنے جعلی بے نامی اکائونٹس کے ذریعہ مخصوص رقوم نکلوانے کا بندوبست کیا۔ یونس حبیب کا جو بیان سامنے آیا اس کے مطابق حبیب بینک سے 148 کروڑ روپے قرض لیا گیا۔ جس میں سے 14کروڑ روپے اسد درانی کو دیئے گئے۔ جنہوں نے 7کروڑ روپے جام صادق علی، ڈیڑھ کروڑ روپے پیر پگارا اور 7کروڑ روپے یوسف میمن کو ادا کئے تاکہ سیاستدانوں کو دیئے جا سکیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ جن 18ملزمان نے بیانات ریکارڈ کروائے ان میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر، ایئر مارشل ریٹا ئرڈ اصغر خان مرحوم، یونس حبیب، یوسف میمن، سابق وزرائے اعلیٰ سندھ،ارباب غلام رحیم، مظفر حسین شاہ، جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی اور میڈیا کی ایک اہم شخصیت شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رقوم کی خورد برد کیلئے 15کمپنیاں کام میں لائی گئیں جن پر رقوم وصولی کا الزام ہے ان میں سے 13شخصیات انتقال کر چکی ہیں۔ جن میں سابق وزراء اعظم محمد خان جونیجو، ملک معراج خالد، غلام مصطفیٰ جتوئی، سابق وزراء اعلیٰ جام صادق علی (سندھ) میر افضل خان (خیبر پختون خوا)، جام یوسف (بلوچستان) سابق وزراء عبدالحفیظ پیرزادہ اور سرور چیمہ شامل ہیں 

Post a Comment

0 Comments