اگر مجھے قتل کر دیا گیا تو ۔۔۔۔بینظیر بھٹو نے ایک غیر ملکی صحافی کو بھیجی گئی ای میل میں جن تین افراد کو اپنی موت کا ذمہ دار قرار دیا تھا ،

اگر مجھے قتل کر دیا گیا تو ۔۔۔۔بینظیر بھٹو نے ایک غیر ملکی صحافی کو بھیجی گئی ای میل میں جن تین افراد کو اپنی موت کا ذمہ دار قرار دیا تھا ، ا ن میں سے ایک کو آصف زرداری نے دوستی اور وزارت عظمی کی پیشکش کی تھی ؟ یہ موصوف کون ہیں ؟ تہلکہ خیز انکشاف





لاہور(ویب ڈیسک)نامور کالم نگار طارق امین اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔ماضی کے بند کواڑ کھولتا ہوں تو آنکھوں کے سامنے مرحوم غلام اسحاق کا چہرہ نظر آتا ہے بھٹو دور کے آخری ایام میں موصوف ڈیفنس سیکرٹری تھے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ بھٹو کی اقتدار سے علیحدگی کی امریکی ساز باز میں اِن غلام اسحاق صاحب
کی مشاورت ضیاءاور اسکے حواریوں سے ایک دو ہاتھ کچھ زیادہ ہی تھی۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ جس طرح مشرف دور میں طارق عزیز کا سول بیوروکریسی میں طوطی بولتا تھا اور اجکل جو مقام فواد حسن فواد کو حاصل ہے اسی طرح ضیاء دور میں یہ غلام اسحاق ہی تھے جو حکومتی معاملات میں سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس دوران بھٹو خاندان سے دشمنی میں انکے دشمنوں نے جتنے کارہائے نمایاں انجام دیے ا±ن میں نہ صرف ان صاحب کی مشاورت شامل تھی بلکہ یہ اس میں برابر کا حصہ بھی ڈالتے رہے۔ بات یہاں تک ر±کتی دکھائی نہیں دیتی بلکہ تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ بینظیر کے پہلے اقتدار کے دور میں ان موصوف نے کس طرح ایک منتخب حکومت کو ڈسٹرب کرنے کیلیئے ایوان صدر میں ایک سیل قائم کر کے نہ صرف بینظیر کے خلاف آئی جے آئی بنوانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ مہران بنک کا پیسہ کچھ مخصوص ہاتھوں جنکا ذکر اجکل اپ اپنے ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے ایوانوں میں سن رہے ہیں اپنی وساطت سے بھٹو مخالف سیاستدانوں میں تقسیم کروانے کے بھی مرتکب ہوئے لیکن اقتدار کی ہوس اور اسکی چیرہ دستیوں کا کمال دیکھیں کہ

کس طرح تاریخ نے وہ دن بھی دیکھا کہ جب انھی غلام اسحاق خاں صاحب کی اس نواز شریف جسکو وہ خود حکومت میں لیکر آئے سے ان بن شروع ہوئی جسکی اپنی ایک الگ داستان ہے کہ کس طرح افتخار گیلانی سے پارلیمنٹ میں 58(2) B کے خلاف تقریر کروا کر نواز اور اسحاق میں تفریق کی پہلی اینٹ رکھی گئی جس میں آگے چل کر وہ اجلال حیدر زیدی جو اپنے دور کا بیوروکریسی کا ٹائیکون تھا اس پر جب لاہور ائیرپورٹ کے رَن وے پر تحقیقات کا آغاز ہوا تو پھر اجلال حیدر زیدی فضل الرحمان خان اور دو انگریزی اخبارات کے ایڈیٹرز انچیف کا گروپ کس طرح نواز شریف کے خلاف برسرپیکار ہوا اس پر انشااللہ کسی اور کالم میں تفصیلی بات ہو گی تو ہاں بات ہو رہی تھی کہ اسی غلام اسحاق نے اقتدار کی لڑائی میں بینظیر جسکی حکومت کو کرپشن چارجز پر موصوف نے 58 (2) B کے تحت برخاست کیا تھا سے نہ صرف دوبارہ ہاتھ ملا لیا بلکہ موصوفہ کے شوہر نامدار جسکو ٹین پرسنٹ کے خطاب سے نواز کر جیل یاترا پر بھیج رکھا تھا جیل سے سیدھا نگران حکومت میں وزارت کے حلف کیلیئے ایوان صدر بھی بلوایا۔ اس پر کچھ لوگ کہیں گے کہ

“محبت اور جنگ میں سب جائز ہے” جبکہ میں کہونگا کہ ” پ±کھ نہ ویکھے سواد تے عشق نہ پوچھے ذات” اقتدار کی اس بھوک اور حکومت کرنے کے عشق میں نہ کوئی حلال یا حرام، نہ کوئی اچھا یا ب±را، نہ کوئی سچا یا جھوٹا نہ کوئی سواد نہ کوئی ذات۔ بس اقتدار اور اقتدار۔ دیکھی چیز ایک ہی جاتی ہے کہ کون کس کو کس وقت سوٹ کرتا ہے۔ کون بھولا ہو گا بینظیر کی مارک سیگل کو وہ ای میل جس میں اس نے اپنی زندگی کو خطرات کے حوالے سے کسی ممکنہ حادثے کے حوالے سے نتائج کا جب پرویز مشرف بریگیڈیئر اعجاز اور پرویز الہی کو ذمہ دار قرار دیے جانے کا لکھا تھا۔ وقت نے دیکھا اپنے اقتدار کو استحکام دینے کیلیئے اسی بینظیر کے خاوند آصف علی زرداری نے نہ صرف اس پرویز الہی سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا بلکہ اسے نائب وزیراعظم کا عہدہ بھی پیش کیا۔ یہ تو ہے صرف ماضی کی ایک معمولی سی جھلک۔ اب اپ زمانہ حال کو ہی دیکھ لیں ابھی کل کی بات ہے ایک دوسرے کو گالی اور بیماری کہنے والوں نے سینٹ الیکشن میں کس طرح ایک دوسرے کو سپورٹ کیا ہے اور تو اور ایک دوسرے کو تانگہ پارٹی اور چپراسی کے طعنے دینے والے کیسے شیر و شکر بنے بیٹھے ہیں۔


نوجوانوں کو سیاست میں آگے لانے کا دعوی کرنے والا اب کس طرح Electable کی سیاست میں گھر کر کباڑ خانے کے پرانے انجن لانے میں مصروف ہے۔ اس سارے تناظر میں تبدیلی کے ا±ن دعویداروں جن سے راقم کو بھی بہت پیار ہے راقم صرف اتنا پوچھنا چاہتا ہے کہ بھائی پچھلے 2013ء کے الیکشن میں جنکو اپ نے فرشتے سمجھ کر پارٹی ٹکٹ دیا تھا اگر ان میں سے آدھے 2018ء میں بکاو ہو کر آپکو دھوکہ دے گئے ہیں تو وہ جو پہلے ہی اپنے آپکو اپنے عمل کے ذریعے کچھ اسطرح کا ثابت کر چکے ہیں وہ آپکو اپکے مقصد میں کیسے کامیاب ہونے دینگے۔ وہ جو اپنے آپکو کتوں اور گھوڑوں کا بڑا شوقین کہتے ہیں اور جنہیں اس بات کا شدت سے احساس بھی ہے کہ کس طرح ان گھوڑے اور کتوں کو خریدتے وقت انکے حسب نسب اور انکی وفاداری کو دیکھا اور پرکھا جاتا ہے اور اس بات کا ذکر یہ اپنے جلسوں میں بھی خوب کرتے ہیں کاش ان Electable کو اپنی پارٹی کا وزٹ ویزہ دیتے وقت وہ ان میں اس صفت کو دیکھ لیں کہیں ایسا نہ ہو کہ تاریخ ایک بار پھر پکار ا±ٹھے کہ اقتدار کے پ±جاریوں کے آگے اقدار کا کیا مقام۔

Post a Comment

0 Comments