کیا شہباز شریف کے پیچھے واقعی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے؟ نجی ٹی وی کے لائو پروگرام میں بڑا انکشاف ہوگیا

کیا شہباز شریف کے پیچھے واقعی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے؟ نجی ٹی وی کے لائو پروگرام میں بڑا انکشاف ہوگیا


کراچی(ویب ڈیسک) نجی نیوز چینل کے اہم پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا کہ زبیر محمود معتبر شخص نہیں ،تہمینہ درانی سے بات ہوئی تو انہوں نے بھی بتایا کہ زبیر محمود اسپتال میں سماجی کاموں پر مامور تھا ، ان کے خیال میں زبیر محمود
ایک پلانٹڈ اور بائی پولر شخص ہے اوراسے مالی بے ضابطگیوں کے باعث فارغ کردیا گیا تھا، تہمینہ درانی کے مطابق میرا سیکریٹری کہلانے والا یہ شخص در اصل ان کا سیکریٹری نہیں تھا، ان کے خیال میں یہ ساز ش اس لئے کی گئی کہ ان کے ساتھ بھی باقی شریف خاندان کی طرح رویہ رکھا جائے جبکہ وہ خود کو شریف خاندان سے الگ سمجھتی ہیں، عارف نظامی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے آج تک اسٹیبلشمنٹ خلاف سیاست نہیں کی، وہ مقتدر حلقوں کے ساتھ چلنے کے قائل نظر آتے ہیں، وہ نواز شریف کو اس نظریے پر لانا چاہتے ہیں جبکہ نوا زشریف اسٹیبلشمنٹ مخالف سوچ اور سیاست کے قائل ہیں، عمران خان نے گڈ کاپ اور بیڈ کاپ والی بات غلط نہیں کی، ان دونوں بھائیوں کے آپس کے تعلقات خراب کرنا بہت مشکل ہے، نوا زشریف اگر شہباز شریف کو کہیں کہ تم سیاست چھوڑ دو تو شہباز شریف کو اس پر عمل کرنا پڑے گا جیسا کہ نواز شریف اپنے والد کے حکم پر کرتے رہے، ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز ، ان کی والدہ اور شہباز شریف کی اہلیہ کی سوچ بھی مختلف ہے، ان کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز شریف مریم نواز کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں،چاہے دونوں کی سیاسی سوچ مختلف کیوں نہ ہو، چوہدری نثار کے حوالے سے کہنا کہ وہ سازش کر رہے ہیں کہنا غلط ہوگا، عارف نظامی کا کہنا تھا کہ یہ پہلی بار ہورہا ہے کہ ن لیگ کی حکومت ہے اور وہ زیر عتاب ہیں، ایک ایجنڈ ا بھی نظر آتا ہے جس کے تحت سینیٹ الیکشن اور بلوچستان حکومت کی مثال ہمارے سامنے ہے، ن لیگ کوپہلے کیوں خبر نہیں ہوئی کہ جن لوگوں نے مشرف دور میں مزے لوٹے اوران کو ساتھ ملایا گیا، احساس محرومی کا نعرہ لگا کر ان کے ساتھ سرمایہ دار اور جاگیر دا ر شامل ہوتے رہے، ان کا تو بہت پہلے مک مکا ہوچکا تھا کہ مناسب وقت پر یہ کام کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ سارے لوگ تحریک انصاف میں نہیں جائیں گے کیونکہ تحریک انصاف کو بھی مضبوط ہونے سے روکنا ہے، عارف نظامی کا کہنا تھا کہ1986میں بینظیر کی واپسی پر پورا لاہور امڈ آیا تھا، عام لوگوں میں تاثر یہ تھا کہ جب تک ضیاء الحق موجود ہے وہ بینظیر کو کبھی آگے آنے نہیں دے سکتا اور اس بات کا رونا جہانگیر بد ر بھی روتے تھے، عارف نظامی نے کہا کہ اگر نواز شریف کو
باہر رکھنے کے ساتھ ساتھ شہباز شریف کو بھی روکنا ہے تو مطلب کے مسلم لیگ ن کو مستقبل اب تاریک ہے لیکن اس طرح کا جعلی معاملات اور ٹیکے لگاکر کر سیاسی جوش و خروش ختم نہیں کیا جاسکتے، آصف زرداری نواز شریف سے نالاں نظر آتے ہیں،عمران خان نے وزیر اعظم بننے کیلئے جو ایک بلینک چیک دیا ہوا ہے شاید پی پی اپنی نظریاتی وجوہات کے باعث ایسا نہ کرسکے۔ پیپلزپارٹی رہنما نفیسہ شاہ نے کہ کہا شریف فیملی ایک کارپوریٹ فیملی ہے اور یقینا ان کی سوچ ہوگی کہ ایک بھائی اداروں کو برا کہے تو دوسرا راتوں میں جاکر ملاقاتیں کرے یا وزیر اعظم چیف جسٹس سے ملاقات کرے، ن لیگ کا ماضی دیکھیں تو آصف زرداری کی پیشیاں ہوتی تھیں اور یہ معاہدے کے تحت باہر گئے، آج پرویز مشرف کے مواخذے کے بات کرنے والے ماضی میں ان کیخلاف کارروائی نہ کرسکے۔نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ پی پی آئین بنانے والی اور آمروں کیخلاف بات کرنے والی جماعت ہے ، پی پی کی ڈیل بھی عوام کے مفادات اور جمہوریت کیلئے ہوتی ہے، نواز شریف کے ماضی کو ہر شخص جانتا ہے ، سب جانتے ہیں کہ آئی جی آئی، جنرل جیلانی نے پیسے بانٹے اور اس کے علاوہ مہران بینک اسکینڈل ہوا،ان کی جماعت میں جنرل ضیاء اور مشرف کی باقیات موجود تھیں جو اب انہیں آہستہ آہستہ چھوڑ رہے ہیں، نواز شریف کے پاس اس وقت کچھ نہیں اس لئے وہ ڈیل کی بھی بات نہیں کرسکتے، ن لیگ نے پنجاب میں50فیصد بجٹ پیسہ خرچ کیا ہے، نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ پی پی کا نواز شریف کے ساتھ نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے آگے لیٹ چکے ہیں ، سینیٹ میں ن لیگ کی مخالفت ضرورت کے تحت کی گئی، ایمنسٹی اسکیم آنے والی حکومت کیلئے مصیبت کا پلندہ ہے۔