
گرینڈ پلان پر عمل شروع: (ن) لیگ مخالفین کی پہلی ترجیح کیا ہے؟ دنگ کر ڈآلنے والی تفصیلات آگئیں
اسلام آباد(ویب ڈیسک)نو ماہ قبل28 جولائی کے فیصلے کے فوری بعد حکمر ان پاکستان مسلم لیگ نون کے خلاف جس جھکڑ کے چلنے کی توقع کی جارہی تھی وہ پوری نہ ہوئی اس دوران حکومت کی مخالف قوتیں سرگرم عمل رہیں اور انہیں جزوی کامیابی ملنا شروع ہوگئی ہے یہ کامیابی ایسی
نہیں جس پر اترا سکیں ، پیر کو کچھ مسلم لیگی ارکان نے اپنی سیاسی وفاداری ترک کرتے ہوئے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی داغ بیل ڈالی ہے یہ ایسا کارنامہ نہیں جس پر یہ فخرکرسکیں۔ ان میں سے بیشتر ارکان وہ تھے جو 2013 کے عام انتخابات میں آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے تھے بعد ازاں انہوں نے اقتدار پر فائز ہوتی پاکستان مسلم لیگ نون سے وابستگی اختیار کرلی ،اپنے اپنے علاقے میں اثر و رسوخ رکھنے والے یہ لوگ خوشگوار موسم کے سیاستدان تو ہوتے ہیں لیکن ماحول کا سرد و گرم انہیں اپنے سیاسی فیصلوں میں ثابت قدم نہیں رہنے دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ نون پر ابتلا کا دور آتے ہی ایسے لوگوں کے بارے میں بڑے پیمانے کی قیاس آرائی شروع ہوگئی تھی جنہیں پارٹی نہیں حکومت سے دلچسپی تھی اب جبکہ حکومت باون دنوں کی مہمان رہ گئی ہے حکومتی ارکان کا ایک گروپ کسی ٹھنڈے علاقے میں مراجعت اختیار کرنے پر آمادہ ہوگیا،گرینڈ ماسٹر پلان کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نون کے پر کترنا مقصود ہے تاکہ وہ پیش آمدہ عام انتخابات میں اس قدر بھاری اکثریت نہ حاصل کر سکے۔ اس پورے کھیل میں جس حکمت عملی کو اختیار کیا گیا ہےس میں پہلے بلوچستان میں مرکز گریز سیاسی قوتوں کے لئے اقتدار کی راہ ہموا ر کی گئی۔ سندھ میں قوم پرستوں کا اتحاد پہلے ہی معرض وجود میں آچکا ہے اسی طرح کراچی اور صوبے کے شہر ی علاقوں میں مختلف لسانی گروہوں میں توڑ پھوڑ کرکے ایساملغوبہ تیار کیا جارہا ہے کہ ان علاقوں میں بڑے گروپ کی صورت میں کوئی سیاسی قوت منصہ شہود پر نہ آسکے۔ اب پنجاب کے جنوبی علاقوں میں ان قوتوں کو سر اٹھانے کا خاطر خواہ موقع فراہم کیا جارہا ہے جو آئندہ چل کر کسی نئی دشواری کو جنم دے سکتی ہیں۔ یہ حکمت عملی مختصر مدت کے لئے کار آمد ہو سکے گی لیکن زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد یہ سوہان روح بھی بن سکتی ہے۔ پاکستان جیسے نظریاتی ملک میں علاقائی بنیادوں یا لسانی تقسیم کے حوالے سے تشکیل پانے والے سیاسی گروپ وفاق اور مضبوط مملکت کے لئے بہت مضرت رساں ثابت ہوسکتے ہیں۔پیر کو سبکدوش وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ نون کے تا حیات قائد نواز شریف نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے ضمن میں قبل از انتخابات دھاندلی کی جارہی ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مقابلے کے تمام فریقوں کو یکساں مواقع فراہم کئے جائیں کسی کو بند گلی میں پھنسانے کی کوشش کی جارہی اور کسی کو بہت زیادہ کھلا ہاتھ دیا جارہا ہے۔نواز شریف کا یہ کہنا غور طلب ہے کہ چار سال سے ترقی کی رفتار تیز تھی عدالتی فیصلے کے باعث ترقی کرتا پاکستان تنزلی کی طرف جارہاہے ،روپے کی قیمت گر گئی ہے، غیر یقینی صورتحا ل کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔
Social Plugin