ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو کی پراسرار ہلاکت کے بعد وفاقی حکومت نے ان کے لواحقین کو یکمشت اور ماہانہ کتنی مراعات دینے کا فیصلہ کیا ہے؟ تفصیلات آپ کو دنگ کر ڈالیں گی
لاہور ( ویب ڈیسک) پنجاب حکومت نے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو کی سربراہی کی پر اسرار ہلاکت کے بعد ان کے لواحقین کی دوران سروس وفات کے حوالے سے وفاقی حکومت نے پالیسی کے مطابق معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیکج کے مطابق سہیل احمد ٹیپو کی
فیملی کو یکمشت 60 لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے جبکہ ان کی مدت ملازمت ساٹھ سال تک ان کی فیملی کو ان کے گریڈ کے مطابق پوری تنخواہ دی جائے گی۔ تنخواہوں میں ہونے والے اضافے بھی ملیں گے جبکہ ان کی بیوہ کو ریگولر پیشن بھی ادا کی جائے گی۔ سہیل ٹیپو کی فیملی ، مدت ملازمت تک سرکاری گھر میں رہائش رکھ سکے گی، سول سوسائٹی نیٹ ورک کی طرف سے سہیل ٹیپو کو فیصل چوک میں شہید ہونےوالے ڈی آئی کیپٹن سید مبین کی طرح معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن چیف جسٹس سیکرٹری پنجاب کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کپٹن مبین کی فیملی کو شہید پیکج کے تحت معاوضہ ادا کیاگیا، سہیل ٹیپو اس درجہ بندی میں نہیں آتے۔دوسری جانب خبر کے مطابق ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کی موت کی وجہ سامنے آگئی ہے اور آر پی او ملتان کی سربراہی میں بننے والی 5 رکنی ٹیم نے اپنی تفتیش مکمل کرلی جو کل وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو کی لاش ان کے کمرے سے برآمد ہوئی تھی اور ابتدائی تفتیش میں بھی کمشنر گوجرانوالہ نے تصدیق کی تھی کہ ڈپٹی کمشنر سہیل احمد ٹیپو نے گلے
میں پھندا ڈال کر خودکشی کی تاہم اب ان کی موت کے بعد بنائی گئی تفتیشی ٹیم نے تصدیق کی ہے کہ سہیل ٹیپو نے خودکشی کی تھی۔تفتیشی ٹیم کو موصول ہونے والی فرانزک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سہیل ٹیپو کی موت پھندا لگنے کے باعث ہوئی اور موت کا وقت 4 بجے کے قریب تھا۔ان کی کلائیوں اور گردن پر لپٹے تار پر بھی ان کے اپنے فنگر پرنٹس پائے گئے۔ سہیل ٹیپو نے خودکشی سے قبل آخری فون کال اپنی بیوی کو کی تھی۔فرانزک لیب کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو نے خود کشی کی ہے۔ذرائع کے مطابق ڈی سی گوجرانوالہ کی پراسرار موت کے حوالے سے فرانزک لیب سے حاصل کی گئی ابتدائی معلومات کے مطابق سہیل احمد ٹیپو کے قتل کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔تفتیشی ذرائع کے مطابق خودکشی کی وجہ شدید ذہنی دباؤ تھا اور سہیل ٹیپو نے 13 مارچ کو کمشنر گوجرانوالہ سے اپنی ذہنی حالت کا اظہار بھی کیا تھا۔ کمشنر نے ڈاکٹر کو دفتر بلوا کر سہیل ٹیپو کا طبی معائنہ بھی کرایا اور سہیل ٹیپو نے خود ڈاکٹر کو بتایا کہ وہ شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے سہیل احمد ٹیپو کو ادویات کے ساتھ 14 روز آرام کی تجویز دی تھی۔جیو نیوز نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کے ڈاکٹر نوید اسلم کا لکھا گیا نسخہ بھی حاصل کر لیا ہے۔
Social Plugin