اگر جہانگیر ترین اور علیم خان مسلم لیگ (ن) کے 8 باغی ارکان کو تحریک انصاف میں لانے میں کامیاب ہو گئے تو اس کا کیا فائدہ اور نقصان ہوسکتا ہے؟
ملاحظہ کیجیے شاندار سیاسی تبصرہ
لاہور(ویب ڈیسک) جنوبی پنجاب کے جو “پنچھی اڑ ڑا کر نئے گھونسلے میں جارہے ہیں یہ پانچ سال تک ایک پارٹی سے فائدہ اٹھا کر گھونسلا بدل رہے ہیں تو آنے والے وقت میں کیا ضمانت ہے کہ نیا گھونسلا تلاش نہیں کریں گے اور عمران خان یا پی ٹی آئی کے وفادار رہیں گے۔
یہ ناقابل اعتبار اور ابن الوقت لوگ ہیں جو صرف ذاتی مفادات کو عزیز رکھتے ہیں یہ نظریاتی لوگ نہیں ہیں ۔ عمران خان ان لوگوں کو پارٹی میں لیں گے اور ٹکٹ دیں گے اور موروثی سیاست کا خاتمہ ، اصولوں کی سیاست، کرپشن سے پاک لوگ، تو ان تمام باتوں کو نقصان پہنچے گا۔ دوسری طرف الیکشن میں اس کی مخالفت سہنی پڑے گی۔ خاص طور پر نوجوان طبقہ مایوس ہو گا۔ الیکشن اصلاحات سے لے کر نظام تک کی اصلاح کو جو پروگرام لے کر چلے تھے وہ سب فلاپ ہو گا۔ اس کا فائدہ پیپلزپارٹی کو ہوگا۔ بہرحال پیپلزپارٹی کے پاس کہنہ مشق سیاست دان موجود ہیں ۔ جس تیزی سے حالات تبدیل ہو رہے ہیں وہ خطرات سے بھرے حالات ہیں ۔ اگر اسٹیبلشمنٹ کی طرف انگلی اٹھائی جارہی ہے کہ سب کچھ اس کے اشارے پر ہورہاہے اور” ہنگ پارلیمنٹ” کی پلاننگ کی جارہی ہے تو ایسی پارلیمنٹ ملک کی تقدیر سے کھیلنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس صورتحال میں اگر عدالتوں سے دوسری جماعتوں
کے لوگوں کو سزائیں نہ ہوئیں یا لوگوں کو انصاف ہوتا نظر نہ آیا تو مسلم لیگ (ن) مظلومیت کا اعلانیہ لے کر لوگوں میں جائے گی اور اپنی مظلومیت کا کارڈ استعمال کرے گی ۔ پاناما میں باقی موجود لوگوں کےخلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے بلا امتیاز انصاف کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن ابھی تک ایسا نظر نہیں آیا۔ سپریم کورٹ کو ثابت کرنا پڑے گا۔ بنیادی طور پر ملک میں قانون کی عمل داری کو پوری طرح چاقت کے ساتھ نظر آنا چاہیے۔ اس کی کمزوری سے فیوڈل ازم مضبوط ہوگا۔ اور اس کا فائدہ پیپلزپارٹی کو ہوسکتاہے۔ پیپلزپارٹی نے واضح پیغام پی ٹی آئی کو دیا ہے کہ اگر آپ نے میدان میں رہنا ہے تو پیپلزپارٹی کا نائب بن کر رہنا پڑے گا ورنہ سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جنوبی پنجاب میں پیپلزپارٹی کی حیثیت مضبوط ہونے سے وفاق میں حکومت بنانے کے امکانات زیادہ روشن ہو جائیں گے۔(بریگیڈئیر لیاقت علی طور)
Social Plugin