آج کل پاکستان میں پیش کیے جانے والے مارننگ شوز کی حقیقت کیا ؟

آج کل پاکستان میں پیش کیے جانے والے مارننگ شوز کی حقیقت کیا ؟ 



                                 انور مقصود کھل کر میدان میں آگئے

لاہور ( ویب ڈیسک)نامور ڈرامہ رائٹر و اداکار انور مقصود نے کہا ہے کہ آج مارننگ شوز ڈانس اور اچھل کود کا مرکز بن چکے ہیں جس کی وجہ سے میں نے مارننگ شوز دیکھنا بند کر دیئے ہیں ۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا نجی ٹی وی چینلز لوگوں کی







اصلاح کے بجائے مارننگ شوز میں صرف بھارتی گانوں ، ڈانس اور دیگر فضولیات میں مبتلا ہو کر اپنے اصل مقصد سے پیچھے ہٹ چکے ہیں ، مارننگ شو کا جو مقصد ہے اس سے لوگوں کو بہت دور رکھا جا رہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ میں نے مارننگ شو دیکھنے بند کر دیئے ہیں ۔ انہوں نے کہا میڈیا اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا معاشرے میں بڑا پاور فل کردار ادا کررہا ہے اور اسکو ان چیزوں کی عکاسی کرنی چاہیے جس سے معاشرے میں بہتری آسکے ۔ انور مقصود نے کہا جہاں تک ہو سکا ہم نے اپنے ملک کی خدمت کی اور جب تک زندہ ہیں یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ واضح رپے کہ اس سےقبل لاہور ہائی کورٹ میں مارننگ شوز میں کم عمر بچیوں کے ناچ گانے پر پابندی کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی سماعت کے دوران عدالت نے پیمرا کو درخواست گزار کا موقف سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔




اس سے قبل عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے یانہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا تھا جس کے بعد جسٹس شاہد کریم نے صحافی تنظیم کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔درخواست صحافی تنظیم کے سربراہ رانا عظیم نے ایڈووکیٹ آفتاب احمد باجوہ کی وساطت سے دائر کی تھی اور درخواست میں وفاقی حکومت پیمرا معروف اینکر ساحر لودھی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ساحر لودھی کے پروگرام میں کم عمر بچیوں میں ناچ گانے کے مقابلے دکھائے جاتے ہیں، جس وجہ سے کم عمر بچیوں کے ناچ نشر کرنے سے معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہو رہا ہے۔غیر اخلاقی ناچ گانوں سے قصور جیسے واقعات جم لے رہے ہیں، پیمرا ایسے پروگراموں کی نشریات کی روک تھام کے لیے اقدامات نہیں کر رہا، عدالت پیمرا کو ساحر لودھی کے پروگرام میں کم عمر لڑکیوں کے ناچ گانے نشر کرنے پر پابندی کا حکم دے۔