مسلم لیگ (ش) قبول ہے مگر ایک شرط پر

مسلم لیگ (ش) قبول ہے مگر ایک شرط پر ۔۔۔۔۔۔ (ن) لیگ کا زوال اور شریفوں کی دکھتی رگ پکڑ کر چوہدری نثار نے بڑی شرط شریف برادران کے سامنے رکھ دی






لاہور(ویب ڈیسک)چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ش قبول ہے لیکن مسلم لیگ محمود اچکزئی قبول نہیں۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن ایک اعتدال پسند جماعت ہے۔ مسلم لیگ ن کا نظریہ اور اس کے ورکر بہت مضبوط ہیں۔ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ






انہیں ن لیگ کے ش لیگ بننے پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں۔ ان کیلئے ش لیگ تو قبول ہے، لیکن ان کیلئے مسلم لیگ ایم اے قبول نہیں۔ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ ایم اے سے مطلب محمود اچکزئی ہے۔ کہاں مسلم لیگ ن کا نظریہ اور کہاں محمود اچکزئی۔ وہ محمود اچکزئی گروپ کی ن لیگ پر قبضے کی کوششوں کی کھل کر مخالفت کریں گے۔ واضح رہے کہ اس سےقبل پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ چودھری نثار تحریک انصاف میں آجائیں تو اچھی بات ہے،اگر وہ آزاد حیثیت سے بھی الیکشن لڑیں تو حمایت کر سکتے ہیں۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق عمران خان نے کہا کہ نوازشریف اورزرداری اربوں ڈالرواپس لے آئیں توان کی توبہ قبول ہے،بلاول بھٹو سے اتحاد کا مطلب زرداری سے اتحاد ہے جو نا ممکن ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے چھ سینیٹرز کے نام فائنل کیے ہیں،سیاست میں دل بڑا کرنا پڑتا ہے،مولانا سمیع الحق اتحادی ہیں،اضافی ووٹ ان کو دے سکتے ہیں ۔





عمران خان نے کہا کہ ایک شخص نے مجھےسینیٹ ٹکٹ کے لیے4کروڑ کی پیشکش کی، پیپلز پارٹی اور ن لیگ سینیٹ الیکشن میں پیسے لگا رہے ہیں،ہم اقتدار میں آکر سینیٹ الیکشن براہ راست کرائیں گے۔چیئر مین تحریک انصاف نے کہا کہ لگ رہا ہے کہ عام انتخابات وقت پر ہوں گے ،سینیٹ الیکشن کے بعد تحریک انصاف آئندہ عام انتخابات کے لیے ٹکٹس جاری کرے گی،نگران حکومت آتے ہی بہت سے لوگ ن لیگ چھوڑ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں،ججز سے درخواست ہے کہ خواجہ آصف کا کیس روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اسمبلیوں سے استعفوں کا سوچا تھا لیکن اچھا ہوا نہیں دیئے۔