مسئلہ کشمیرحل ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا؟ مولانا فضل الرحمن کا انکشاف
لاہور(ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر میں دہشت گردی کر رہا ہے جسکے خلاف شدید تر ین احتجاج کر نا ہوگا ‘دنیا خاموش تماشائی بننے کی بجائے بھارتی مظالم کا نوٹس لے ‘ کشمیر مسئلے کا حل فوجی ہے یا سیاسیہم آج تک طے نہیں کر سکے کشمیر مسئلے کا حل سیاسی ہے‘ہم بھارت سے بھی کہتے ہیں کہ وہ سیاسی حل کی طرف آئے، ہم سیاسی حل کی بات پہلے سے کررہے ہیں ہم غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر کے اپنا نقصان کررہے ہیں، کسی کے منہ پر کالک مل دینا پارلیمنٹ کے منہ پر کالک ملنے کے مترادف ہے۔ اتوار کے روز مولانا امجد خان اور دیگر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر یوں پر ہونیوالے مظالم جیسے واقعات میں صرف یکجہتی کا لفظ کافی نہیں عوام کو سڑکوں پر آکر ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ بھارت کے مفاد میں بھی یہی ہوگا وہ اقوام متحدہ کی قرار داداوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کر یں اسکے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا ۔دوسری جانب خبر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمین سید علی گیلانی نے ضلع پلوامہ کے علاقے کنگن میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوان مصور احمد وانی کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے یہ سرفروش ایک مقدس مقصدکے لیے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں اور ہم پر یہ ذمہ داری ڈال دیتے ہیں کہن کے مشن کو ہر صورت میں اور ہر قیمت پر جاری رکھیں۔ سرینگر میڈیا کے مطابق سید علی گیلانی نے پلوامہ میں شہید ہونے والے نوجوان کے جلوس جنازہ سے ٹیلیفون پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری ایک امن پسند قوم ہے لیکن بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس خطے میں قیمتی انسانی زندگیوں کے اتلاف میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ان لوگوں کے لیے بھی چشم کُشا ہے جو اپنے حقیر مفادات کی خاطراپنے ہی لوگوں کی زندگیوں کا سودا کرکے دشمن کے خاکوں میں رنگ بھررہے ہیں، قوموں کی تاریخ میں ایسے لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے جو دوسروں کے ’’کل‘‘ کے لیے اپنے ’’آج‘‘ کو قربان کرتے ہیں اور ایسے سرفروشوں کی قربانی کسی بھی صورت کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتی ہے۔
Social Plugin