نگران وزیر اعظم کون ہو گا؟ عمران خان کی انوکھی رائے سامنے آگئی
سلام آباد (ویب ڈیسک)چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پہلی بار اگلے وزیرا عظم کے آزاد ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ کی خواہش تھی کہ جنوبی پنجاب سے (ن) لیگ چھوڑنے والے ان کی پارٹی میں آجائیں۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے
پہلی بار اگلے وزیر اعظم سے متعلق اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے آزاد امیدواروں میں سے ایک کا کہا ہے کہ جو اگلے عام انتخابات جیتنے والوں اور ان کا سیاسی تنظیموں کی طرح کوئی نظریہ نہیں ہے ۔انہوں نے اگرچہ صحافیوں سے گفتگومیں یہ بات کہی جس سے بڑے پیمانے پر یہ تاثر عام ہوا کہ عبدالقدوس بزنجو یا صادق سنجرانی مخلوط پارلیمنٹ سے لیے جائینگے ۔اور یہ بھی کوشش کی جائے گی کہ بالخصوص پنجاب اسمبلی سے اتنی ہی تعداد میں ہوں جو کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کا مضبوط گڑھ ہے ۔سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہ بحث ہورہی ہے کہ آزاد او ر چھوٹے علاقائی کو مختلف علاقوں میں متحرک کیا جائے جو الیکشن کے بعد وزیرا عظم کے منصب کو حاصل کرنے کیلئے بڑی سیاسی جماعتوں کو مفلوج کرکے ایک بلاک بنائے گی ۔عمران خان نے کہا کہ آزاد امیدواروں نے جیتنے کے بعد سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے کیلئے خود کو بیچا ،اگرچے پیپلز پارٹی کے کچھ مضبوط امیدوار اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے ’’منتخب ـ‘‘پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوچکے ۔یہ اس کی بہت زیادہ حمایت پر منظم ہونے کے قابل نہیں ہیں ۔عمران خان نے اپنے مخالفین کا چھوٹے گروپوں کو سنایا،
س سے متعلق انہوں نے اپنی مایوسی ظاہر کی جس پر جنوبی پنجاب سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے الگ ہونے والے گروہ کے فیصلے پر بات کی جو ان کی پارٹی کے ساتھ منسلک نہیں ہونا چاہتے ۔دوسری جانب خبر کے مطابق سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہ بحث ہورہی ہے کہ آزاد او ر چھوٹے علاقائی کو مختلف علاقوں میں متحرک کیا جائے جو الیکشن کے بعد وزیرا عظم کے منصب کو حاصل کرنے کیلئے بڑی سیاسی جماعتوں کو مفلوج کرکے ایک بلاک بنائے گی۔
0 Comments