سیاسی چال بازی یا کچھ اور معاملہ ۔۔۔ ؟؟ خیبر پختونخوا حکومت کو سعودیوں نے ایسا جھٹکا دے دیا کہ عمران خان بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئے
پشاور(ویب ڈیسک ) عمران خان کے دعوئوں کے برعکس سعودی شاہی خاندان کی معروف عالمی ہما کیپٹل کمپنی نے قانونی پیچیدگیوں اور تحریک انصاف حکومت کے عدم تعاون کے باعث صوبے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے انکار کرتے ہوئےمقامی پارٹنر المان گروپ کو سرمایہ کاری معاہدہ ختم کرنے کیلئے15اپریل تک کی ڈیڈ لائن دیدی‘ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور پالیسی مرتب کرنے میں تاخیر کےباعث المان گروپ کے 3ارب روپے بھی ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ‘ المان گروپ کا ڈیرہ اسماعیل خان میں شوگر ملز اور پاور پلانٹ کا تعمیراتی کام رک گیا‘عدالتی احکامات کے باوجود حکومت دو ماہ میں شوگر ملز کے قیام کے حوالے سے پالیسی مرتب کرنے میں ناکام ہوگئی‘وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویزخٹک نے ’’جنگ‘‘ کو بتایا کہ خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار ہے ‘ کسی کا سرمایہ ڈوبے گا نہ ہی کوئی غیر ملکی سرمایہ کار مایوس ہو گا‘ المان گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر سید محمود نے کہا کہ 3ارب روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود تحریک انصاف حکومت میں دھکےکھا رہا ہوں‘ کے پی ایزمک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعید احمد نے ’’جنگ‘‘ کوبتایا کہ انہوں نے ایک ماہ قبل عہدے کا چارج سنبھالا ہے ‘جلد اجلاس طلب کرکے مسئلہ حل کروا دینگے ‘ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں‘ تفصیلات کے مطابق المان گروپ نے خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا اورڈیرہ اسماعیل خان میں شوگر ملز اور پاور پلانٹ کی تنصیب کا اعلان کیا المان گروپ نےسعودی عرب کےشاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد ابو نایان(Abunayyan) اور المحدب(Al Muhaidib) کی فرم ہما کیپٹل لمیٹڈ(HIMMAH) کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت فرم ڈیرہ اسماعیل خان میں شوگر ملز کے قیام
کے لئے سرمایہ کاری کرے گی ‘ہما کیپٹل لمیٹڈ کی جانب سے منیجنگ پارٹنر سید عاصم ظفر اور ساجد ریاض جبکہ المان گروپ کی جانب سے سید محمود اعزازی قونصلر جنرل تاجکستان اور شیخ یعقوب نے دستخط کئے‘گروپ نے 5جولائی 2016ء کو خیبرپختونخوا اکنامک ڈیویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی ( کے پی ایزمک) کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے تحت 11جولائی 2016ءکو سیکرٹری صنعت نے ملز کے قیام کیلئے باقاعدہ این او سی جاری کیا‘ 19دسمبر 2016ءکو انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے بھی شوگر ملز کے قیام کی منظوری دیدی‘ المان نے شوگر ملز کے ساتھ بجلی پیدا کرنے کیلئے ایک پاور پلانٹ کی تنصیب کا بھی فیصلہ کیا جس سے 35میگا واٹ بجلی پیدا ہونی تھی اور 31جنوری 2017ءکو انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے اس حوالے سے بھی لیٹر آف سپورٹ جاری کر دیا جبکہ الٹرنیٹ انرجی ڈیویلپمنٹ بورڈ ( اے ای ڈی بی ) نے بھی ملز لگانے کی اجازت دیدی‘ 22 اگست 2017ء کو پیسکو نے بھی پاور پلانٹ لگانے کی توثیق کر دی تاہم 13فروری 2018ء کو سی پیک کے حوالے سے ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نئےپاور پلانٹس لگانے پر پابندی عائد کر دی گئی ‘ڈیرہ اسماعیل خان میںپہلے سے 4شوگر ملز چل رہی ہیںجبکہ ایک ہی ڈویژن میں مزید شوگر ملز کے قیام کے حوالے سے کوئی گنجائش نہیں تھی
‘ قانون کے مطابق ایک شوگر ملز سے 35کلو میٹر کی حدود کے اندر دوسری شوگر ملز قائم نہیں کی جا سکتی تاہم خیبر پختونخوا حکومت نے عجلت میں قانون کے برعکس ایک ہی ڈویژن میں مزید 2شوگر ملز کے قیام کیلئے این او سی جاری کردئیے جن میں المان شوگر ملز بھی شامل ہے جس پا 60فیصد کام مکمل ہو چکا ہے تاہم المعزانڈسٹری لمیٹڈ دریا خان‘ شوگر ملز لمیٹڈ اور چشمہ شوگر ملز نے ایک ہی ڈویژن میں شوگر ملز کی بھرمار کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر دی جس میں موقف اختیار کیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 4شوگر ملز پہلے سے موجودہیں جبکہ مزید 2نئی شوگر ملز کے قیام کیلئے این او سی کا اجراءغیر قانونی ہےجس پر 16جنوری 2018ءکو پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس مس مسرت ہلالی پر مشتمل بنچ نے المان سیام شوگر ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کو تعمیراتی کام سے روکتے ہوئے حکومت کو 2ماہ کے اندر اندر پالیسی مرتب کرنے کے احکامات جاری کئے تاہم2ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صوبائی حکومت کوئی پالیسی مرتب کرنے میں مکمل طور پر ناکا م رہی جس کے باعث مقامی سرمایہ کار المان گروپ کے 3ارب روپے ڈوبنے کا خدشہ پید اہوگیا ۔دوسری جانب تحریک انصاف حکومت کی عدم دلچسپی اور قانونی پیچیدگیوںکے باعث ہما کیپٹل لمیٹڈ دبئی آفس نے یکم اپریل 2018ءکو ایک خط کے ذریعے المان گروپ کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے ‘ ہماکیپٹل کے منیجنگ پارٹنر سید عاصم ظفر کی جانب سے المان گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر سید محمود کے نام جاری خط میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ہما کیپٹل قانون پیچیدگیوں اور ہائیکورٹ کے فیصلے کے باعث المان گروپ سے ہونے والے معاہدے سے دستبردار ہونا چاہتی ہے کیونکہ فرم کے تمام سٹیک ہولڈرز المان سیام شوگر ملز میں سرمایہ کاری کیلئے راضی نہیں تاہم المان گروپ کو یکم اپریل سے دوہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے موقف اختیار کیاگیا ہے کہ شوگر ملز کے قیام کے حوالے سے تمام قانونی پیچیدگیاں ختم کرکے حکومتی سرپرستی کی تحریری یقین دہانی کرانے کی صورت میں سرمایہ کاری ممکن ہوگی دوسری صورت میں معاہدہ ختم تصور ہوگا ‘ اس حوالے سے سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زاہد اللہ شنواری نے 22مارچ 2018ء کو ایک خط نمبر 904/SC/PDMکے ذریعے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک سے بھی مطالبہ کیا کہ المان سیام شوگر ملز پرائیویٹ لمیٹڈ چالو کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں کیونکہ المان گروپ کو ماہانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے اور اگر پراجیکٹ مکمل طور پر بند ہو گیا تو 3ارب روپے بھی ڈوب جائینگے ۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ’’جنگ‘‘ کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار ہے‘ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ سرمایہ کاری کیلئے پرکشش مواقع فراہم کر رہے ہیں‘ المان سیام شوگر ملز کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد تاخیر ہوئی تاہم قانونی پیچیدگیاں دور کرکے نئی پالیسی مرتب کرینگے ‘ انہوں نے کہا کہ کسی کا سرمایہ ڈوبے گا اور نہ ہی کوئی غیر ملکی سرمایہ کار مایوس ہو کر واپس جائے گا ‘ المان سیام گروپ کے ایم ڈی سید محمود نے جنگ کو بتایا کہ تحریک انصاف حکومت صوبے میں غیرملکی سرمایہ کاری لانے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم نہیں کرتی ۔پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کےباوجود حکومت نے کوئی پالیسی مرتب نہیں کی جس کے باعث سعودی کمپنی نے یکم اپریل 2018ء کو صوبے میں سرمایہ کاری سے معذرت کرتے ہوئے معاہدے کے خاتمے کیلئے 15اپریل تک کی ڈیڈ لائن دی ہے ‘ دوسری جانب میں تین ارب کی سرمایہ کاری کرچکا ہوں اور ہرماہ لا کھوں روپے مزید نقصان ہورہا ہے‘ انہوں نے کہا کہ اس فیکٹری سے چار ہزار افراد کو روزگار ملنا تھا اور 35میگاواٹ بجلی پیدا ہونی تھی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کولانے کی بجائے بھگانے میں مصروف ہے ‘کے پی ایزمک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعید احمد نے ’’جنگ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چونکہ انہوں نے ایک ماہ قبل ہی چارج سنبھالا ہے لہٰذا وہ بہت جلد ایک اجلاس بلا کر اس معاملے کو حل کروا دینگے ‘ انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے میں سرمایہ کاری کیلئے مخلص ہے اور سرمایہ کاروں کو سہولیات بھی فراہم کر رہی ہے‘ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے باعث معاملہ تعطل کا شکار ہوا لیکن اب عدالتی احکامات کی روشنی میں نئی پالیسی مرتب کرکے شوگر ملز کا معاملہ حل کروائیں گے ۔ (ع،ع)
Social Plugin