تحریک لبیک کے دھرنے کے باعث داتا دربا ر کی انتظامیہ کو کتنا نقصان ہوا؟ ناقابل یقین انکشاف ہو گیا
تحریک لبیک کے دھرنے کے باعث داتا دربا ر کی انتظامیہ کو کتنا نقصان ہوا؟ ناقابل یقین انکشاف ہو گیا
لاہور (ویب ڈیسک) تحریک لبیک یا رسول اللہ کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب، فیض آباد ددھرنا میں جاں بحق ہونے والوں کا مقدمہ درج، مذاکرات 11 گھنٹے تک جاری رہے،
خادم رضوی کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا ۔تحریک لبیک کےکارکنان کا احتجاج کی وجہ سےبدترین ٹریفک جام ہو گئی، ٹریفک جام نے شہریوں کو رولا دیا، بتی چوک ٹریفک کیلئےبند، شہریوں نےگاڑیاں اورموٹرسائیکلیں میٹروٹریک پرچڑھالیں۔لاہور کی مصروف ترین سٹرکوں پر شدید ٹریفک جام ہونےکے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ٹریفک کو رواں رکھنے کی ذمہ داروارڈنز بھی ٹریفک کو رواں رکھنے میں بے بس دکھائی دیے۔ دھرنے کی وجہ سے جہاں عام شہری شدید پریشانی و مشکلات کا شکار ہے وہاں داتادربار کے گردو نواح سے ملحقہ تاجروں سمیت مزار داتا دربار کے غلے کو بھی شدید مالی نقصان کا سامنا ہے دھرنے کی وجہ سے گزشتہ دس روز سے شاہدرہ سے سول سیکرٹریٹ تک میٹرو بس کی سروس معطل ہے داتا دربار پر حاضری کیلئے آنے والے زائرین کی تعداد میں بھی کافی حد تک کمی واقع ہو گئی ہے۔داتا دربار انتظامیہ کو 25 لاکھ کا نقصان ہوا۔ دھرنے کے شرکاء کو داتا دربار کی پارکنگ دی گئی۔ جس کے باعث 40 ہزار یومیہ نقصان ہوا ،
جبکہ جوتوں کے ٹھیکیدار کو بھی ہزاروں روپے کا نقصان ہوا۔جبکہ دربار کے چندے میں دس سے پندرہ لاکھ روپے کمی ہوئی۔ جبکہ زائرین کی آمد میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھی گئی۔۔ تحریک لبیک کی جانب سے شاہدرہ چوک، شاہدرہ ٹاؤن، نیازی چوک، ہانڈیاں پل، ٹھوکر نیاز بیگ، ملتان روڈ، قصور روڈ پر احتجاجی دھرنا دیا گیا جس کے باعث معاملات زندگی شدید ترین متاثر ہوئے۔ جگہ جگہ ٹائروں کو آگ لگا کر اہم شہرائیں بند کی گیئں،کہیں عوام کے ساتھ تلخ کلامی اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ متعدد بسیں اور ہیوی وہیکلز نے اس وقت رکاوٹوں کی شکل اختیار کر لی جب تحریک لبیک کے کارکنان کی جانب سے ٹائروں کی ہوا نکال دی۔اسی طرح تحریک لبیک یارسول اللہ کے شہر بھر میں احتجاج مظاہرہ موہلنوال چوک، پکامیل، سگیاں، بابو صابو میں احتجاجی مظاہرہ، داتا دربار، سوڈیوال، چونگی امرسدھو، کاہنہ کاچھا، بھٹہ چوک اور داروغہ والا بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ مظاہرین اور انتظامیہ کی چپکلش میں استحصال صرف عوام کا ہوتا ہے۔ انتظامیہ مظاہرین سے مذاکرات کرے تاکہ عوام کو بار بار مشکلات سے دو چار نا ہونا پڑے۔
0 Comments