اسلام آباد پولیس ہیڈ کوارٹرز کے بعد لاہور سے شرمناک خبر : آئی جی جیل خانہ جات کے دفتر کے محفوظ کمروں میں خواتین اہلکاروں کے ساتھ کیاسلوک کیا گیا؟ خاتون اہلکار نے چیف جسٹس آف پاکستان کو شکایت کر دی
اسلام آباد پولیس ہیڈ کوارٹرز کے بعد لاہور سے شرمناک خبر : آئی جی جیل خانہ جات کے دفتر کے محفوظ کمروں میں خواتین اہلکاروں کے ساتھ کیاسلوک کیا گیا؟ خاتون اہلکار نے چیف جسٹس آف پاکستان کو شکایت کر دی
لاہور(ویب ڈیسک )آئی جی جیل خانہ جات نے ہراساں کرنے والے اہلکاروں کو بے گناہ قراردیکر خاتون جیل ملازمہ کو برطرف کردیا ۔
جبکہ خاتون نے انصاف کے لیے چیف جسٹس پاکستان کو درخواست دیدی ۔ تفصیلات کے مطابق چونگی امر سدھو کی رہائشی خاتون نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ آئی جی خانہ جات کا پی اے وارث علی شہزاد متعدد مرتبہ ہراساں کر چکا جس کی شکایت پنجاب محتسب کو جمع کرائی لیکن محتسب کی تعیناتی نہ ہونے سے درخواست فائلوں کی زینت بنی رہی تاہم اس کا تبادلہ کوٹ لکھپت جیل میں کردیا گیا جہاں پر محمد جمیل ہیڈ کلرک اور آفس سپرنٹنڈنٹ نے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا شروع کردیا لیکن اس معاملہ پر آئی جی کو درخواست دی جس پر انہوں نے انکوائری کرتے ہوئے تمام ملزموں کو بے گناہ قراردیدیا جبکہ غیر حاضری کو بنیاد بنا کر موقف سنے بغیر نوکری سے برطرف کردیا گیا ۔خاتون نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے استدعا کی کہ ازخود نوٹس لیکر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیاجائے ۔ جبکہ اس سے قبل ومی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس لائن یڈکوارٹرز میں خواتین پولیس اہکاروں کوجنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔
انکوائریوں سے جان خلاصی کروانے کے لیے مخصوص کمروں میں بلائے جانےا ور ویڈیوز بنانے جیسے الزامات کے اوپر خط چیف جسٹس آف پاکستان،چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ ،وزیر داخلہ،چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو ارصال کیا گیا ہے۔جب کہ آئی جی اسلام آباد کے حکم پر تین مشتبہ اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔نامعلوم خواتین اہلکاروں نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہم لاکھوں مجبوریوں کی وجہ سے یہ نوکری کر رہی ہیں۔محکمہ میں بھرتی ہونے کے بعد ہماری عزت کا خیال رکھنا سینئیر افسروں کی ذمہ داری ہے۔لیکن یہاں پر ہماری عزتوں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔ڈی ایس پی سے لے کر ایس پی تک کسی بھی پیشی کے موقع پر ہمیں ایک مخصوص جگہ بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں آ جاو اور پھر ہمیں مجبورا جانا پڑتا ہے۔ہیڈ کوارٹرز میں ڈی ایس پی کے آپریٹرز اور ریڈر نے مخصوص کمرے بنا رکھے ہیں۔جہاں پر ہماری پیشی کی سماعت ہماری عزت دے کر ہوتی ہے۔خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کچھ لڑکیاں جن کی عزت کے ساتھ کھیلا گیا ہے ان کی ویڈیوز صرف چیف جسٹس کو واٹس ایپ کی جائیں گے۔خط میں چیف جسٹس سے اس واقع کے اوپر نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔
0 Comments