واجد ضیاء تو گاؤں کی ریڑھیوں پر ملنے والے خربوزے سے بھی زیادہ پھیکے نکلے ۔۔۔ شریف خاندان کے خلاف اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا
اسلام آباد (ویب ڈیسک) احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے استغاثہ کے گواہ واجد ضیا پر دس روز بعد جرح مکمل کر لی۔ مریم نواز اور کیپٹن( ر)صفدر کے وکیل امجد پرویز نے واجد ضیا پر جرح شروع کر دی ۔
خواجہ حارث نے دوران جرح جے آئی ٹی کے ارکان پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں نواز شریف کا مخالف قرار دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ احتساب عدالت کے ٹرائل کو عدالت عظمی کا فیصلہ متاثر نہیں کرے گا جبکہ جے آئی ٹی پر اعتراض اٹھایا جا سکتا ہے۔کیس کی سماعت آج جمعرات تک ملتوی کر دی گئی ہے ۔بدھ کواحتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف مریم نواز اور کیپٹن صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ خواجہ حارث نے واجد ضیا پر دسویں روز جرح مکمل کر لی۔ خواجہ حارث نے دوارن جرح واجد ضیا سے پوچھا کہ کیا جے آئی ٹی رپورٹ میں نیلسن اور نیسکال سے متعلق کوئی بھی دستاویزات نواز شریف کی ملکیت سے متعلق تھیں؟ اور کیا آپ کو ایون فیلڈ کی نواز شریف سے متعلق کوئی دستاویزات ملیں؟ واجد ضیا نے کہا کہ نہیں، جے آئی ٹی رپورٹ میں ایسی کوئی دستاویز ات نہیں ملیں جو ثابت کرسکیں کہ لندن فلیٹس کبھی نواز شریف کے قبضے میں رہے ہوں، البتہ دستاویزات اکٹھا کرنے کی کوشش ضرور کی تھی.وکیل صفائی خواجہ حارث نے پوچھا کہ کیا آپ کے علم میں تفتیش کے دوران آیا
کہ جے آئی ٹی کے رکن بلال رسول میاں اظہر کے بھانجے ہیں اور بلال رسول کی اہلیہ نے 2013ء میں مسلم لیگ (ق )سے الیکشن لڑااور وہ یعنی بلال رسول کی اہلیہ پی ٹی آئی کی بڑی اہم سپورٹر ہیں، خواجہ حارث نے یہ بھی پوچھا کہ کیا آپ کے علم میں آیا کہ میاں اظہر کے بیٹے حماد اظہر جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران عمران خان سے ملے ہوں۔واجد ضیا ء نے بتایا کہ تفتیش کے دوران نوٹس میں آیا تھا کہ بلال رسول میاں اظہر کے بھانجے ہیں، لیکن ان کی اہلیہ کے مسلم لیگ (ق) سے الیکشن لڑنے اور پی ٹی آئی کا سپورٹر ہونے سے متعلق سوال پر واجد ضیا نے پہلے کہا کہ یقین سے نہیں کہ سکتا پھر کہا کہ اس حوالے سے مجھے یاد نہیں،خواجہ حارث نے پوچھا کہ کیا عامر عزیز کو حدیبیہ پیپرز کی تحقیقات کیلئے بلایا گیا تھا؟ واجد ضیا نے کہا کہ یہ بات مجھے یاد نہیں ہے ، اس سے متعلق سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا گیاتھا ۔نیب پراسکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ یہ سوال ریفرنس سے متعلق نہیں ہے ، وکیل صفائی کو ایسے غیر ضروری سوالات سے روکا جائے، انہوں نے کبھی جے آئی ٹی کی تشکیل کو چیلنج نہیں کیا۔
خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے اس ٹرائل کو عدالت عظمی کا فیصلہ متاثر نہیں کرے گا ، یہ بھی کہا گیا کہ جے آئی ٹی پر اعتراض اٹھایا جا سکتا ہے۔خواجہ حارث نے پوچھا کہ کیا تفتیش کے دوران علم میں آیا کہ جے آئی ٹی ممبر عامر عزیز کا این آئی بی اے ایف میں کام کر رہے تھے ؟ واجد ضیا نے کہا کہ یہ دوران تفتیش معلوم ہوا ، سٹیٹ بنک نے عامر عزیز کو جے آئی ٹی کیلئے نامزد کیا ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ کیا آپ کو معلوم تھا کہ مشرف دور میں عامر عزیز کو نیب میں ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ؟ واجد ضیا نے بتایا کہ مجھے تفصیل میں یاد نہیں لیکن سپریم کورٹ میں ان کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں اٹھا تھا ، خواجہ حارث نے کہا کہ میرا حق ہے کہ جانوں جے آئی ٹی کی کریڈیبلٹی کیا ہے.خواجہ حارث نے کہا پہلے اپنی مرضی سے بیان ریکارڈ کرایا اب کہتے ہیں کہ جرح نہ کریں ، میں کہتا ہوں بلال رسول کی اہلیہ (ق) لیگ کی نامزد امیدوار تھی ، میرے پاس ریکارڈ موجود ہے یہ چاہیں تو انکار کر دیں ، میں کوئی ہوا میں بات نہیں کر رہا،
خواجہ حارث نے پوچھا کہ جے آئی ٹی ممبر عرفان منگی کی ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب تعیناتی پر انکوائری ہو رہی ہے ،واجد ضیا نے بتایا کہ پتہ چلا تھا کہ عرفان منگی کیخلاف انکوائری زیر التوا ہے ۔نیب پراسیکیوٹر نے ایک بار پھر جرح میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال غیر ضروری ہیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ کسی تفتیشی کی غلط بیانی کو عدالتی نوٹس میں لانا میری ذمہ داری ہے ۔انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ جے آئی ٹی کے ممبر بریگیڈئیر نعمان سعید آئی ایس آئی کے ریگولر ملازم نہیں تھے۔واجد ضیا نے ایک بار اس بارے میں لا علمی کا اظہار کیا۔مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے واجد ضیا پر جرح کی.واجد ضیا نے بتایا کہ جے آئی ٹی سیکریٹریٹ کا سٹاف 30سے 40افراد پر مشتمل تھا جن کے نام سیکورٹی کے پیش نظر سپریم کورٹ نے صیغہ راز میں رکھنے کا حکم دیا تھا بعدازاں جب انہوں نے والنٹیریلی اپنا بیان بدلنا چاہا تو امجد پرویز نے کہا کہ آپ جو ایک بار کہہ چکے اس سے آپ کو پیچھے نہیں ہٹنے نہیں دوں گا سینئر وکیل نہیں ہوں سادہ سا طریقہ آتا ہے سوال کرنے کا ویسا ہی کروں گا۔واجد ضیا نے تسلیم کیا کہ سپریم کورٹ
نے نام جے آئی ٹی کے تیس سے چالیس افراد کے نام صیغہ راز میں رکھنے کا کوئی حکم نہیں دیا.امجد پرویز نے پوچھا کہ کیا جے آئی ٹی نے اپنی خط وکتابت کیلئے کوئی ڈائری ڈسپیچ رجسٹرڈ بنایا .واجد ضیا نے بتایاکہ جنرل چیزیں جیسے بنکوں وزارت خارجہ اور اداروں سے رابطے کیلئے ڈائری ڈسپیچ رجسٹرڈ بنایا گیا لیکن خاص چیزوں کا اندراج سکریسی کی غرض سے ہم خود کرتے تھے۔نیب پراسیکیوٹر نے جرح میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ امجد پرویز سوال کم اور تبصرے زیادہ کرتے ہیں ،امجد پرویز نے کہا کہ یہ غداری کا نہیں اثاثوں کا کیس ہے تحقیقاتی رپورٹ سے باہر کوئی چیز نہیں پوچھ رہا ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وکیل صاحب سوال کریں لیکن استغاثہ کے گواہ کو ہراس نہ کریں.وکیل امجد پرویز نے پوچھا کہ جن لوگوں نے ڈائری ڈسپیچ رجسٹرڈ میں مدد کی کیا ان کے بیانات قلمبند کیے ہیں واجد ضیا نے کہا کہ ان کے بیانات قلمبند نہیں کئے اورجے آئی ٹی نے روزانہ کی بنیاد پر ڈائری مینٹین نہیں کی،سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو ہرپندرہ روز بعد پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھااور ہم نے دو ماہ میں سپریم کورٹ کے سوالات کا جواب دینا تھا۔
ایک سوال پر واجد ضیا نے بتایاکہ سپورٹنگ سٹاف میں پروسس سرو کرنے کیلئے آئی ایس آئی کے بریگیڈئیر نعمان کو مامور کر رکھا تھا۔امجد پرویز نے پوچھا کہ آپ نے پروسس سرو کرنیوالے فرد کا بیان ریکارڈ کیا.جس پر واجد ضیا نے کہا کہ نہیں ہم نے ان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا. امجد پرویز نے پوچھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کس نے ٹائپ کی .واجد ضیا نے بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ چھ ارکان نے مشاورت سے ٹائپ کی.جس پر تمام ارکان نے دستخط کئے.انہوں نے کہا کہ عدالت میں دئیے جانیوالا رضاکارانہ بیان جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ نہیں۔واجد ضیا پر امجد پرویز کی جرح مکمل نہ ہو سکی عدالت نے کیس کی سماعت آج جمعرات تک ملتوی کردی۔آج بھی امجد پرویز واجد ضیا پر جرح جاری رکھیں گے۔
0 Comments