رائیونڈ تبلیغی مرکز کی توسیع کے لیے ڈیڑھ سو کنال اراضی کس سیاستدان نے فراہم کی ۔۔۔؟پروپیگنڈے کے دنوں میں ایک ناقابل یقین انکشاف
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلام آباد کی اس نشست میں قابل تعظیم علمائے کرام، مذہبی سکالرز او ر دینی مدارس کے طلبا موجود تھے۔ مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی کا ایک مراسلہ زیر نظر تھا جو نائن الیون کے بعد دینی مدارس کو دہشت گردی سے جوڑنے کی مہم کے جواب میں چوہدری شجاعت حسین کے کردار سے متعلق تھا
معروف صحافی طاہر خلیل اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ان کی مضبوط آواز منفی پروپگینڈے کے ازالے کے لئے اٹھی تھی۔مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ انہیں یاد نہیں کہ چوہدری شجاعت سے پہلی ملاقات کب اورکہاں ہوئی؟ لیکن جب بھی ہوئی اس وقت سے آج تک ان کی محبت، انکساری اور وضعداری کا تاثر دل پر قائم ہے، ان کے کچھ سیاسی فیصلے اچھے نہیں لگے لیکن پھر یہ سوچ کردل کو تسلی دی کہ گدائے خاک نشینی تو حافظا مخروش ۔۔۔ رموز مملکت خویش خسرواں دانند ۔۔ خانہ مستانہ میں عاشقان رسول صلعم کی۔ا س نشست کااہتمام حافظ عمار یاسر نے کیا تھا جو خود بھی صاحب کتاب کے ہمراہ کئی اہم واقعات کے چشم دید گواہ ہیں۔دور وزارت عظمیٰ میں سب سے اہم واقعہ جس پر چوہدری شجاعت آج بھی نازاں ہیں عراق میں پاکستانی فوج بھیجنے سے انکار تھا۔ اوائل جولائی میں جب وزیر اعظم ہائوس کے در وازے ملک بھر کے لوگوں کیلئے کھولے گئے تو ایک روز جب وزیر اعظم شجاعت حسین لوگوں سے ملاقات کررہےتھے کہ دفترخارجہ کے لوگوں نے مطلع کیا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ رچر ڈ ارمٹیج کچھ دیر میں وزیر اعظم سے ملنا چاہتے ہیں اور عراق میں پاکستانی فوج بھیجنے کے بارے میں بات کرینگے۔ دفتر خارجہ نے ایک تیار شدہ ڈرافٹ وزیر اعظم کےحوالے کیااورکہا کہ آپ یہ امریکی مہمانوں کو پڑھ کر سنا دیں جس پر لکھا تھا”It is very difficult for us to send Pakistan i troops to Iraq due to certain reasons”وزیراعظم نے یہ ڈرافٹ پڑھ کر اپنی جیب میں رکھ لیا ، وزیر خارجہ خورشید قصوری، وزیر خزانہ شوکت عزیز اور وزیر تجارت ہمایوں اختر خان اس میٹنگ میںموجود تھے۔رچرڈار مٹیج نے عراق فوج بھیجنے سے متعلق بات شروع کی تو وزیراعظم شجاعت حسین نے کوئی لمبی چوڑی تمہید باندھے بغیر جواب دیا”It is impossible for us to send Pakistan troops to Iraq” دفتر خارجہ کو وزیراعظم کا یہ جواب پسند نہ آیا کیونکہ انہوں Difficult کے لفظ کو Impossible میں تبدیل کر دیا تھا ، یہ کوئی جذباتی فیصلہ نہیں تھا ، شجاعت حسین بتارہے تھے کہ فیصلے سے ایک روز قبل خواب میں غیبی اشارہ ہوا تھا کہ عراق فوج نہ بھیجیں۔عراق فوج بھیجنے نہ بھیجنے کا معاملہ سعودی عرب کے دورے میں بھی زیر غور آیا تھا ، شاہ عبداللہ مرحوم سے چوہدری شجاعت نے استفسار کیا تھا کہ مسلم ممالک میں اس مسئلے پر جو فیصلہ سعودی عرب کا ہوگا وہی ہمارا ہوگا۔ مولانا حنیف جالندھری کی رائے وزن رکھتی ہے کہ چوہدری شجاعت دینی درد رکھنے والے انسان ہیں ان کی شخصیت میں کسی قسم کے عجب و تکبر کا شائبہ تک نظر نہیں آتا۔ نائن الیون کے بعد جب دینی مدارس پر جبر کا دور شروع ہوا ایسے میں چوہدری شجاعت نے مدارس مخالف پالیسیوں، غیرملکی دبائو اور حالات کے جبر کے سامنے ایک ڈھال کاکردار ادا کیا۔
0 Comments