پڑھی لکھی لیڈر شپ قوموں کو آگے لے جانے کے لیے کتنی ضروری ہوتی ہے؟پاکستانی عوام کے کام کی تحریر
لاہور(ویب ڈیسک)اپنے ساتھیوں کا اعتماد اور احترام حاصل کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کے علاوہ ان کی ذمہ داریوں کے متعلق بھی اپنے علم کا اظہار کریں۔ البتہ اتنا ضرور ذہن میں رکھیں کہ سیکھنا ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ اپنے علم کوبڑھانے اور اس کا اظہار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ: ٭ اپنے کام کے ذریعے ماتحتوں کو دکھایئے کہ انہیں اپنا کام کیسے کرنا چاہئے۔ ٭ دوسروں کی غیرمعیاری کارکردگی کا نوٹس لیجئے اور اس کی تصحیح کیجئے، خصوصاً ان کی جو آپ کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔ ٭ کسی طرح کی غیریقینی کیفیت پیدا ہونے کی صورت میں سوال پوچھنے سے مت ہچکچایئے۔ ٭ تجربہ کار لوگوں کی باتیں سن کر اور ان کے طریق ہائے کار کا مشاہدہ کر کے اپنے علم کو وسعت دیجیے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں: ’’جو علم کی مختلف شاخوں پر مکمل عبور حاصل کر لے گا وہ زندگی سے سبق حاصل کرے گا اور جو زندگی سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ درحقیقت گذشتہ تہذیبوں کے عروج اور زوال کے اسباب کا مطالعہ کرتا ہے۔‘‘ علم طاقت ہے اور کسی بھی طرح کی لیڈر شپ کے لئے غایت درجہ کی اہمیت کا حامل۔ نظریاتی اور عملی دونوں طرح کے علوم اہم ہیں۔ دنیا میں بے شمار ایسے لیڈر ہیں جنہوں نے اپنے طور پر تعلیم حاصل کی، ان میں سے کئی ایسے بھی ہیں جنہوں نے بڑے لیڈروں کی صفوں میں بھی اپنے لئے ایک امتیازی مقام حاصل کیا۔ مثلاً ہم سبھی جانتے ہیں کہ آئن سٹائن کی طرح چرچل بھی
ابتدا میں ایک اوسط درجے کے طالبعلم تھے اور ان کے اساتذہ کی رائے ان کے متعلق کچھ اچھی نہ تھی۔ ان کے ایک استاد کا کہنا تھا۔ ’’یہ لڑکا مکتب سے کچھ حاصل نہیں کر سکتا، سوائے تکلیف اور پریشانی کے۔‘‘ بنگلور میں اپنی تعیناتی کے دوران چرچل کو فرصت کے طویل وقفے میسر آئے۔ ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنے آپ کو وہ تعلیم دینا شروع کی جو انہیں سکول سے نہ مل سکی تھی۔ انہوں نے مختلف حقائق اور معلومات کی تحصیل اور تجمیع کے فن میں مہارت حاصل کی۔ علم حاصل کرنے کے لئے وہ مختلف اخباروں، جریدوں اور اپنی والدہ کو خط لکھتے اور ان سے ضروری مواد منگواتے۔ اس طرح حاصل کردہ تمام مواد کو وہ لکھ کر زبانی یاد کرتے تاکہ اپنے علم میں اضافہ کر سکیں۔ ہمارے اپنے ملک میں زیادہ تر پرانے لیڈر خود آموختہ ہیں۔ مشہور سیاسی لیڈر نواب زادہ نصر اللہ خان برصغیر پاک و ہند کی جمہوری دنیا کے سینئرترین اور نہایت صاحب علم لیڈروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے بھی اپنے آپ کو خود ہی زیورِ تعلیم سے آراستہ کرتے ہوئے ریاست، حکومت اور بیرونِ ملک سفارت کاری سے متعلق شعبہ ہائے علم پر عبور حاصل کیا۔ علم حاصل کرنے کے لئے تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف
طریقے بشمول بنیادی تعلیم، تجربہ اور مباحث استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔ قدیم یونان کی تاریخ کے دانشمند افراد میں سے ایک، سقراط ہے، جس کے شاگردوں میں سے افلاطون جیسے دانشور نکلے اور جنہوں نے کئی کتابیں لکھیں۔ ارسطو افلاطون کا شاگرد تھا۔ سقراط ایک فلسفی تھا جو ہمیشہ حقیقی علم کا متلاشی رہتا تھا۔ اس کی تلاش کا طریقہ کار ’’مباحثہ‘‘ تھا جسے وہ ’’ڈائیلاگ /مکالمہ‘‘ کا نام دیتا تھا، اور یہ اس کی عقل و دانش کا اعتراف ہے کہ آج بھی تحصیل علم کے لئے یہی طریقہ سب سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ کوئی حکومت ایسے متجسس افراد کو پسند نہیں کرتی۔ لہٰذا حکومت نے اسے گرفتار کر لیا۔ اسے پیشکش کی گئی کہ اگر وہ اپنے مباحث اور حقیقی علم کی تلاش ترک کر دے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا۔ سقراط نے انکار کر دیا۔ اس پر مقدمہ چلایا گیا اور موت کی سزا سنائی گئی۔ ایتھنز کے باسیوں اور قاضیوں کی ایک عدالت نے اسے سزا سنائی جن سے خطاب کرتے ہوئے اس نے زہر کے پیالے کو ترجیح دی۔ اس نے کہا: ’’اگر تم مجھے اس شرط پر چھوڑنا چاہتے ہو کہ میں سچائی کی تلاش ترک کر دوں تو میں کہوں گا، اے ایتھنز والو، تمہارا شکریہ! لیکن ۔۔۔ جب تک میری سانس چل رہی ہے اور میرے بدن میں جان ہے، میں اپنی یہ تلاش ترک نہیں کروں گا۔ جو بھی میرے رستے میں آئے گا، میں اس کی طرف بڑھوں گا اور اس سے پوچھوں گا’کیا تم اپنے قلب و ذہن کو دنیاوی دولت و اکرام کی طرف مائل کرنے پر شرمندہ نہیں ہو جبکہ اپنی روح کو بہتر بنانے کی خاطر دانش اور سچ حاصل کرنے کی تمہیں کوئی پروا نہیں؟‘‘ میں نہیں جانتا کہ موت کیا ہے۔ یہ ایک اچھی چیز بھی ہو سکتی ہے اور میں اس سے خوفزدہ نہیں ہوں۔ میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ مورچہ چھوڑ کر بھاگ جانا بری بات ہے اور جسے میں درست سمجھتا ہوں، اسے اس پر ہمیشہ ترجیح دوں گا جسے میں غلط سمجھتا ہوں۔ رچرڈ نکسن اپنی کتاب ’’لیڈرز‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’جب سیاسی لیڈر بننے کی تمنا رکھنے والے نوجوان مجھ سے پوچھتے ہیں کہ انہیں اس مقصد کے لئے خود کو کیسے تیار کرنا چاہئے تو میں کبھی انہیں سیاسیات پڑھنے کا مشورہ نہیں دیتا۔ اس کے بجائے میں انہیں مشورہ دیتا ہوں کہ فلسفہ، تاریخ اور ادب پڑھیں، اپنے اذہان کو جس قدر ہو سکے وسعت دیں۔ سیاست ہو یا حکومت، اس کے قواعد و ضوابط اور طریق ہائے کار کا بہترین علم تجربے سے ہی حاصل ہوتا ہے لیکن مطالعہ کی عادت، منظم سوچ، گہرے تجزیئے کی تیکنیکس، اقدار کا بنیادی ڈھانچہ، فلسفیانہ اساس، یہ ایسی چیزیں ہیں جنہیں ایک لیڈر کو اپنے تعلیمی عمل کی ابتدا سے ہی اپنانا اور جذب کرنا چاہئے اور ساری عمر جاری رکھنا چاہئے… جتنے عظیم لیڈروں سے میں واقف ہوں، تقریباً ان سب میں ایک مشترکہ خصوصیت نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ سب کے سب مطالعے کے عادی تھے… ٹی وی دیکھنا ایک مجہول اور جامد سرگرمی ہے لیکن مطالعہ ایک متحرک سرگرمی ہے
Social Plugin