سپریم کورٹ نے ٹی وی چینلز پر غیر ملکی مواد دکھانے سے متعلق حکومتی پالیسی بحال کر دی

سپریم کورٹ نے ٹی وی چینلز پر غیر ملکی مواد دکھانے سے متعلق حکومتی پالیسی بحال کر دی

سپریم کورٹ نے ٹی وی چینلز پر غیر ملکی مواد دکھانے سے متعلق حکومتی پالیسی بحال کر دی
سپریم کورٹ نے ٹی وی چینلز پر غیر ملکی مواد دکھانے سے متعلق حکومتی پالیسی بحال کر دی
اسلام آباد ( 05 مارچ 2019ء) : سپریم کورٹ نے غیر ملکی مواد سے متعلق حکومتی پالیسی کو بحال کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ٹی وی چینلز پر غیر ملکی مواد دکھانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے وکیل نے دوران سماعت یہ مؤقف اختیار کیا کہ سال 2006ء میں وفاقی کابینہ نے ایک پالیسی بنائی تھی، جس کے تحت بھارتی مواد مساوی تبادلے کے اصول پر دکھایا جاسکتا تھا۔

پیمرا کے وکیل کے مطابق 2006ء کی پالیسی کے تحت ٹی وی چینلز 10 فیصد غیر ملکی مواد دکھا سکتے تھے تاہم 19 اکتوبر 2016ء کو پیمرا نے غیر ملکی مواد دکھانے پر مکمل پابندی عائد کردی تھی۔

غیر ملکی مواد دکھانے کی مکمل پاپندی کو لیو کمیونیکیشن نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کے بعد عدالت نے 10 فیصد غیر ملکی مواد دکھانے کی اجازت دی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے تھے کہ پابندی صرف وفاقی حکومت لگا سکتی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پیمرا نے مذکورہ فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے پیمرا کی اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔ جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کیا اب بھی لوگ بھارتی فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں ؟ پیمرا کی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نجی ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد کا تناسب صفر ہے جب کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے پیمرا کے اختیارات ختم ہوگئے ۔

سپریم کورٹ نے غیر ملکی مواد دکھانے کے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ ستمبر 2016ء میں کشمیر میں اڑی کے مقام پر ہندوستانی فوجی کیمپ پر حملے کے بعد پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہونے کی وجہ سے پیمرا نے 19 اکتوبر 2016ء کو ٹی وی چینلز پر بھارتی ڈراموں کی نشریات پر پابندی عائد کر دی تھی جسے بعد میں لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

Post a Comment

0 Comments