اسلام آباد( تازہ ترین
اخبار-26 دسمبر 2018ء ) :چیف جسٹس نے جی این این کو 2 دن تک پرائم ٹائم میں فوڈ
اتھارٹی سے معزرت نشرکرنے کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ڈی جی فوڈ
اتھارٹی ،سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کے سامنے پیش ہوئے۔انہوں نے گورمے بیکرز
کے حوالے سے رپورٹ چیف جسٹس کے سامنے پیش کی ،اس موقع پر ڈی جی فوڈ اتھارٹی کیپٹن
(ر) عثمان نے گورمے بیکرز کے خلاف شکایات کے انبار لگا دئیے۔
انکا کہنا تھا کہ میری رپورٹ پر میری
کردار کشی کی جا رہی ہے۔جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔انکا
کہنا تھا کہ سرکاری افسر کی کردار کشی کی مہم توین عدالت کے مترادف ہے۔اس موقع پر
چیف جسٹس نے گورمے بیکرز کی تمام پراڈکٹس کا لیب تجزیہ کروانے کا حکم دے دیا۔
اس کے ساتھ ہی ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے
اپنی رپورٹ میں بتایا کہ گورمے بیکرز کی آئس کریم مضر صحت ہے اور انسانی صحت کے
نقصان دہ ہے۔
چیف جسٹس نے پی ایف اے کی رپورٹ
پرگورمے بیکرز کے تمام پروڈکشن یونٹ بند کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔اس موقع پر
چیف جسٹس خاصے برہم ہو گئے انہوں نے جی این این کی نمائندگی کرنے والے خالد قیوم
کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ مجھے آدھی رات کو سفارشی فون کرواتے ہوئے ۔کیوں نہ
جی این این کو کچھ دن کے لیے یا مستقل طور پر بند کر دیا جائے۔مجھے سفارش کروانے
سے پہلے سفارشیوں کو انجام یاد رکھنا چاہیے۔
انکا کہنا تھا کہ یہ گورمے کا مالک
چٹھہ اتنا بڑا کاروباری شخص کیسے بن گیا۔اس کی چھان بین ہو گی تو سب سامنے آ جائے
گا۔آج ۔ گورمے بیکری اور جی این این کے مالکان ذوالقرنین چٹهہ اور شہریار چٹهہ
عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے شہریار چٹهہ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کیا
آپ سمجهتے ہیں کہ عدالتیں سفارش سے چلتی ہیں، آپکی گورمے کی آئس کریم ناقص تهی،
جگر کی بیماریوں کا باعث تھی۔چیف جسٹس نے ڈی جی فوڈ اتھارٹی کی کردار کشی کا
معاملہ اٹھا یا تو ملبہ ماتحت انتظامیہ پر ڈال دیا گیا۔چیف جسٹس نے گورمے اور جی این
این کے مالکان کی معافی تو قبول کر لی تاہم انکو ہدایت دی کہ 2 دن پرائم ٹائم میں
جی این این نیوز چینل کو فوڈ اتھارٹی سے معذرت نشر کریں۔
0 Comments