العزیزیہ اور فلیگ شپ اصل میں ہے کیا؟
![]() |
العزیزیہ اور فلیگ شپ اصل میں ہے کیا؟
اسلام آباد ( 24 دسمبر 2018ء) : احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کا فیصلہ
سنا دیا ہے۔عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں بری کر دیا گیا
ہے جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں مجرم قرار دیتے ہوئے سات سال قید کی سزا دی گئی اور
25 ملین ڈالرز جُرمانہ عائد کیا گیا اس کے علاوہ نواز شریف کو دس سال کے لیے عوامی
عہدے کے لیے بھی نااہل قرار دیا گیا ہے۔
تین بار وزیراعظم رہنے والے اور مسلم لیگ
ن کے قائد اب 7 سال جیل میں گزاریں گے۔لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف
بنائے جانے والے العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز اصل میں ہیں کیا؟۔میڈیا رپورٹس میں بتایا
گیا ہے کہ 2016 میں پانامہ پیپرز میں انکشافات ہوا تھا کہ سابق وزراعظم نواز شریف اور
ان کے بچوں کی آف شور کمپنیاں ہیں اور لندن کے مہنگے ترین علاقے مے فئیر میں فلیٹس
بھی ہیں جس کے بار ے کہا جاتا ہے کہ یہ مبینہ طور پرمنی لانڈرنگ کے ذریعے سے بنائی
گئی۔
جس کے بعد اس معاملے کی تحقیقات شروع ہوئیں
تو نیب نے نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف تین ریفرنسز دائر کیے جن میں ایون فیلڈ
ریفرنس، فلیگ شپ انویسمنٹ اور العزیزیہ اسٹیل ملز شامل ہیں۔
العزیزیہ ریفرنس:
العزیزیہ ریفرنس کے بارے میں آپ کو بتائیں
کہ العزیزیہ اسٹیل ملز سعودی عرب میں 2001ء
میں جلاو طنی کے دوران نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے قائم کی۔
جس کے بعد 2005ء میں ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ
کمپنی قائم کی گئی۔نیب نے اپنے ریفرنسز میں الزام عائد کیا تھا کہ اسٹیل ملز کے قیام
اور ہل میٹل کمپنی کے اصل مالک نواز شریف ہیں۔
فلیگ شپ:
فلیگ شپ ریفرنسز نواز شریف کی آف شور کمپنیوں
سے متعلق ہے۔اور انہی کمپنیوں میں ایک کمپنی کیپٹل ایف زیڈ ای تھی جس میں نواز شریف
کمپنی کے چئیرمین تھے۔
اسی چئیرمین شپ کو بنیاد بناتے ہوئے سپریم
کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا۔اس ریفرنس میں نیب کی جانب سے الزام عائد
کیا گیا تھا کہ فلیگ شپ کمپنیوں کے اصل فوائد نواز شریف لے رہے تھے اور وہی ان کمپنیوں
کے مالک ہیں۔
ایون فیلڈ ریفرنس:
ایون فیلڈ ریفرنس لندن میں شریف خاندان
کے فلیٹوں سے متعلق تھا جس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو 10 سال قید کی سزا سنائی
تھی جب کہ ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک
سال قید کی سزا جرمانے کے ساتھ سنائی گئی تاہم بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس فیصلے
کو معطل کر دیا تھا۔
خیال رہے پانامہ پیپرز کے سامنے آنے کے
بعد پاکستانی سیاست میں ایک بھونچال آگیا اور اس معاملے کو 2016 میں سپریم کورٹ میں
لایا گیا جہاں پر یہ کیس چلتا رہا اور فروری 2017 میں اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا گیا۔
جو بعد ازاں 20 اپریل کو سنایا گیا جس کے نتیجے میں 2-3 کا فیصلے سامنے آیا اور کیس
کے فیصلے کے نتیجے میں جے آئی ٹی بنا دی گئی تھی۔جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹمیں
پیش کی تو اس کے بعد 28 جولائی کو 0-5 کا فیصلہ آیا جس میں نواز شریف کو وزارت اعظمیٰ
سے نااہل کردیا گیا اور اس رپورٹ کی روشنی میں احتساب عدالتمیں ریفرنس بھیجے گئے جن
میں سے ایک ریفرنس ایون فیلڈ ریفرنس تھا جو نواز شریف کے لندن میں موجود اپارٹمنٹس
سے متعلق تھا۔

0 Comments