ہیومن اسٹوری : داستان اس خاتون کی جو گاؤں ۔ گاؤں جاکر کنڈوم استعمال کرنا سکھاتی ہے
![]() |
| ہیومن اسٹوری : داستان اس خاتون کی جو گاؤں ۔ گاؤں جاکر کنڈوم استعمال کرنا سکھاتی ہے |
ہیومن اسٹوری : داستان اس خاتون کی جو گاؤں ۔ گاؤں جاکر کنڈوم استعمال کرنا سکھاتی ہے
آج سے 15 سال پہلے کنڈوم کا نام سنا ۔کچھ افسروں نے خواتین کی میٹنگ بلائی ۔کہا ، یہ بچوں کی پیدائش کے وقفے میں مدد کرے گا۔ما لا ڈی اور کاپر ٹی سے بڑھیا ہے۔
۔(صحت اور فلاح و بہبود کی وزارت کی اسکیم تحت دیہی خواتین گاؤں میں کنڈوم تقسیم کرتی ہیں۔راجستھان کی سویتا دھولیا بھی ان میں سے ایک ہیں۔وہ کنڈوم تقسیم کے دوران آنے والے مسائل کے بارے میں بات کرتی ہیں)۔
راجستھان خوبصورت قلعوں ،سرخ رنگوں اور چٹخ کھانے کیلئے ہی سیاحوں کو نہیں لبھاتا ۔دو ایک دم الگ چیزوں کے ساتھ دیکھنا ہو تو بھی راجستھان جا سکتے ہیں ۔ایک اور فرنگیوں کو بھی اپنانے کی سخاوت تو دوسری جانب ٹھیٹھ ثقافت۔
یہاں خواتین گھونگٹ سنبھالتے ہوئے ہی چتا میں جاتی ہیں۔پردے کی اوٹ سے ہی گھر کے سارے کام کرکے یہی خواتین دوپر میں تھیلا اٹھائے نظر آئیں گی۔وہ تھیلے کا منھ کھولتی ہیں اور پسیجے ہاتھوں سے گاؤں کی گلیوں کی خواتین اور مردوں کو ایک پیکٹ پکراتی ہیں ۔یہ پیکٹ ہے کنڈوم کا۔اس پر بنئ تصویر ہی اس کا استعمال بتا دیتی ہے۔
آج سے 15 سال پہلے کنڈوم کا نام سنا ۔کچھ افسروں نے خواتین کی میٹنگ بلائی ۔کہا ، یہ بچوں کی پیدائش کے وقفے میں مدد کرے گا۔ما لا ڈی اور کاپر ٹی سے بڑھیا ہے۔ ہم ساری خواتین لال ہو گئیں ۔پھر اس کے استعمال کا طریقہ سمجھایا ۔اس کیلئے 6 دنوں کی ٹریننگ ملی ۔ شروع ۔ شروع جھجک لگتی شرم آتی لیکن پھر سمجھ میں آیا کہ یہ چیز ہم خواتین کی ہی مدد کرے گی'۔
اطمینان بخش طریقے سے اپنی بات کہتی سویتا راجستھان کے چورو ضلع کے چھوٹے سے گاؤں سادل پور کی بہو ہیں ۔آبادی ، تقریبا 2000 ۔یہاں چاچا ، تاؤ ،بوا ،خالہ ،(موسی) خطاب کے بغیر بات نہیں ہوتی ۔ایسے ماحول میں "سیف ۔سیکس" پر بات ممنوع ہے ۔سویتا کا تجربہ بھی اس سے علیحدہ نہیں۔
میں ویسے تو شروع سے بولڈ رہی ،لوگ سنبھل کر بات کرتے لیکن اس کام میں مجھے بھی شرم محسوس ہوتی ۔شوہر سے چھوتی عمر کے مرد ہمارے دیور لگتے ہیں۔ دیوروں کو تو تقسیم کر پاتی لیکن بڑی عمر کے مردوں سے جھجک لگتی۔ان کی عورتوں کو کنڈوم دیتے ،سمجھاتے ۔کوئی کوئی سمجھتا تو کوئی انکار کر دیتا ۔کوئی الٹے سوال کرتا ۔ایسے کئی لوگ ہیں جو کنڈوم کے استعمال سے ڈرتے ہیں ۔ایک جوڑے نے 10 بچے پیدا کئے میں نے خوب سمجھایا کہ اسے استعمال کرو لیکن اس خاتون نے صاف منع کر دیا۔اسے لگتا کہ یہ پیٹ میں جاکر پھٹ جائے گا۔ایسے اور بھی لوگ ہیں۔
پھر کنڈوم کے پیکٹوں کو گھر میں رکھنا بھی ایک بڑی مشکل ہے ۔لوگ دوا جیسی چیزیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھتے ہیں ۔ہم گاؤں والے کنڈوم کو بچوں سے چھپاتے۔پیکٹ کے اندر رکھتے تاکہ کسی کی نظر نہ پڑے۔
۔'سال 2003 میں کنڈوم کو پہلی مرتبہ ہاتھ میں لیا۔پہلی مرتبہ ہی ہم نے بھی استعمال کیا'۔گاؤں کے مرد ۔خاتون کچھ نہیں جانتے تھے۔انہیں انگوٹھے میں لگا کر پورا طریقہ سمجھاتے کہ کیسے اور کب لگانا ہے ۔عجیب لگتا لیکن ٹارگیٹ ملا تھا اس لئے کرنا ہی ہوتا تھا ۔کچھ وقت پہلے مہینے میں 10 لوگوں کو کنڈوم بانٹنے کا ہدف ہوا کرتا ۔چاہے وہ 10 ہوں یا پھر 10 مرد ۔ہم خواتین کو کھوجتے تاکہ کھل کر بات کر سکیں ،اب ٹارگیٹ نہیں رہا۔
لوگ ۔پڑھ لکھ گئے ہیں اور فری کنڈوم نہیں لینا چاہتے ۔وہ خود دکان پر جاکر اپنی پسند کا لیتے ہیں ۔اکا۔دکا لوگ ہی "سرکاری کنڈوم " لیتے ہیں'۔
کام کا سب سے مشکل حصہ کیا ہے؟
گاؤں کی کم عمر بہوؤں کے ساتھ کا برتاؤ ،وہ اس کام میں آتی ہیں لیکن کم عمر ہوتی ہیں۔اتنی بولڈ نہیں ہوتیں، ڈرتی ہیں۔ لوگ فبتیاں کستے ہیں ،مزاق اراتے ہیں ،بہت سی خواتین کو یہ سب جھیلنا ہوتا ہے۔آج کل کے لرکے زیادہ سوال جواب کرت ےہیں ۔کئی مرتبہ فون پر بھی پریشان کرتے ہیں۔
مجھے ویسے پریشانی نہیں جھیلنی پڑی ۔کوئی کچھ کہے تو فورا جواب دیتی ہوں ۔لینا ہے تو لو ورنہ جاؤ ۔سب خواتین ایسے بول نہیں پاتیں ، نہ اپنے شوہر پر اس کے استعمال کا دباؤ بنا پاتی ہیں۔

0 Comments