یں کسی میاں صاحب کو نہیں جانتا۔۔۔۔ چوہدری نثار کی مسلم لیگ (ن) میں واپسی کی افواہوں کے بخیے ادھیڑ دینے والی خبر

یں کسی میاں صاحب کو نہیں جانتا۔۔۔۔ چوہدری نثار کی مسلم لیگ (ن) میں واپسی کی افواہوں کے بخیے ادھیڑ دینے والی خبر

CH NISAR




اکوڑہ خٹک(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما اور نوازشریف کے دیرینہ ساتھی چوہدری نثار نے اپنے قائد کو ہی پہچاننے سے انکار کردیا۔ اکوڑہ خٹک میں مولانا سمیع الحق کے اہلخانہ سے تعزیت کے بعد چوہدری نثار کو صحافیوں نے گھیر لیا۔ اس دوران میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ،

سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کو راستہ دینا ہوگا۔اس موقع پر ایک صحافی نے چوہدری نثار سے میاں نوازشریف سے متعلق سوال کیا کہ میاں صاحب آرہے آپ انتظار کریں گے؟چوہدری نثار نے صحافی سے پوچھا کون سے میاں صاحب آرہے ہیں؟ اس پر صحافی نے جواب دیا کہ میاں نوازشریف آرہےہیں۔لیگی رہنما نے کہا کہ میری طرف سے آپ انہیں سلام کہہ دینا۔واضح رہےکہ پاناما کیس کے بعد سے چوہدری نثار علی اور نوازشریف کے درمیان دوریاں پیدا ہوگئی ہیں جب کہ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے انہیں پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا اور چوہدری نثار نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا تاہم وہ قومی اسمبلی کی نشست پر شکست کھاگئے اورپنجاب اسمبلی پر کامیاب ہوئے۔ جبکہ دوسری جانب چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطلی کے خلاف نیب کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ ہائیکورٹ کا سزا معطلی کا فیصلہ کالعدم کردیں۔شریف خاندان کی سزا معطلی کے خلاف سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے آئینی درخواستوں کو سنتے وقت مقدمے کے حقائق پر بات کی،

مخصوص مقدمات میں عدالتیں مقدمے کے حقائق پر بات کرسکتی ہیں۔نیب کے وکیل نے کہا کہ کسی ملزم کی زندگی خطرے میں ہو یا اپیل عرصے تک مقرر نہ ہو تو حقائق پر بات ہوسکتی ہے، ایسے مقدمات کو مخصوص مقدمات ( ہارڈشپ) کہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ پہلے بھی یہ دلائل دے چکے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ضمانت کے مقدمات میں عام حالات کی مثالیں موجود ہیں، عدالت عام مقدمات میں حقائق کا جائزہ نہیں لیتی، یہ خاص مقدمہ ہے۔چیف جسٹس نے کہا ہائیکورٹ نے تمام حقائق کا جائزہ لیا، شاید یہ میری دانست میں پہلا مقدمہ ہے جس میں ہائیکورٹ نے تمام حقائق پر بات کردی۔ چیف جسٹس نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہم خواجہ حارث صاحب کو سن لیتے ہیں جن کا کہنا تھا کہ کامیاب اینجوپلاسٹی پرمبارکباد پیش کرتا ہوں، آپ کو آرام کرلینا چاہیے تھا مقدمے کی سماعت کسی اور دن کے لیے مقرر کردیں۔چیف جسٹس نے کہا یہ مقدمہ ایک فرد کا نہیں بلکہ عدالتی نظام میں بہتری کا معاملہ ہے، اس لئے آیا ہوں، یہ قانون کی تشریح کا معاملہ ہے۔خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ صرف 12 صفحات پر مشتمل ہے اور ہائی کورٹ نے باقی فریقین کی گزارشات لکھی ہیں۔

Post a Comment

0 Comments