![]() |
| Add caption |
ایک اور از خود نوٹس: چیف جسٹس ثاقب نثار نے سرکاری افسران کی نیندیں اڑا دینے والا قدم اٹھا لیا
![]() |
CHIEF JUSTICE |
اسلام آباد (ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے سرکاری افسران کی بڑی رہائش گاہوں کا نوٹس لے لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سرکاری افسران کروڑوں روپے مالیت کی زمینوں پر بنائی گئی رہائش گاہوں میں قیام پذیر ہیں۔
ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے نوٹس میڈیا رپورٹس پر لیا، جن میں بتایا گیا تھا کہ ملک میں بعض سرکاری افسران کی رہائش گاہیں کئی ایکٹر رقبے پر محیط ہیں۔سرکاری اراضی اور عمارات کا غلط استعمال قومی خزانے پر بھی بوجھ ہے۔ واضح رہے کہ اس سےقبل سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا نعیم بخاری ایڈوکیٹ سے اہم مکالمہ ہوا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ‘آئندہ میں عدالت میں ڈیم فنڈ کیلئے پیسوں کی بات نہیں کروں گا، لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈیم سے میرا رومانس فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے’۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ‘ڈیم ویسے ہی بن جانا ہے، بہت عطیات آرہے ہیں، اب تک جمع ہونے والے پیسے ہی کافی ہیں، اتنی برکت ہے کہ ان ہی آٹھ دس ارب روپوں سے ہی ڈیم بن جائے گا’۔خیال رہے کہ نعیم بخاری نے ریویو پٹیشن میں وکیل تبدیلی کے دلائل سننے کیلئے ازارہ مذاق ایک ہزار روپے فی سیکنڈ ڈیم فنڈ میں دینے کی پیشکش کی تھی جس پر چیف جسٹس نے مذکورہ ریمارکس دیے۔


0 Comments