مسلم لیگ (ن) کےمستعفی ہونے والے 8ارکان کس سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے والے ہیں؟ سیاسی ماحول کو گرما دینے والی خبر آ گئی

مسلم لیگ (ن) کےمستعفی ہونے والے 8ارکان کس سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے والے ہیں؟ سیاسی ماحول کو گرما دینے والی خبر آ گئی

مسلم لیگ (ن) کےمستعفی ہونے والے 8ارکان کس سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے والے ہیں؟ سیاسی ماحول کو گرما دینے والی خبر آ گئی

لاہور(ویب ڈیسک) جنوبی پنجاب سے مسلم لیگ ن کے 8ارکان اسمبلی نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے منحرف ارکان اسمبلی نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے،
جنوبی پنجاب صوبہ محاذ پرمتحد ہوئے ہیں،میربلخ شیرمزاری جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی سرپرستی کریں گے۔وہ آج یہاں پریس کانفرنس کررہے تھے۔ پریس کانفرنس میں خسروبختیار اور طاہر بشیر سمیت 8ارکان اسمبلی نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ ان ارکان اسمبلی میں 6ایم این ایز اور 2ایم پی ایز شامل ہیں۔خسروبختیار نے کہاکہ استعفے نئے صوبے جنوبی پنجاب کے قیام کیلئے دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جنوبی پنجاب میں ہردوسرا شخص ماہانہ 3ہزار بھی نہیں کماتا۔جنوبی پنجاب کے اضلاع کی غربت 51فیصد ہے۔ نئے صوبے کے قیام کے ساتھ نیا جوڈیشل نظام بھی آئے گا۔ میربلخ شیرمزاری جنوبی پنجاب محاذ کی سربراہی کریں گے۔طاہر بشیرچیمہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے۔طاہر اقبال چوہدری نے کہا کہ ختم نبوت ﷺ ایشو پرمسلم لیگ ن کوباقاعدہ طور پرچھوڑ چکا ہوں۔جنوبی پنجاب کی پسماندگی دور رنے کیلئے الگ صوبہ بنانا لازم ہے۔رانا محمد قاسم ن نے کہا کہ آج جنوبی پنجاب صوبہ محاز کے نام پرمتحد ہوئے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں کوئی بھی ہماری حمایت کے بغیرالیکشن نہیں جیت سکے گا۔نصراللہ دریشک نے کہا کہ جنوبی پنجاب کوالگ صوبہ بنانے کا وقت آگیا ہے۔جنوبی پنجاب کوصوبہ بنانے کیلئے ہرممکن جدوجہد کریں گے۔جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ ن سے الگ ہو کر ’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘ بنانے والے سابق وفاقی وزیر خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ ہم ٹکٹ کے محتاج نہ تو پہلے تھے، نہ ہی اب ہیں.
ان خیالات کا اظہار انھوں‌ نے اے آر وائی کے پروگرام پاور پلے میں‌ بات چیت کرتے ہوئے کیا. انھوں‌ نے کہا کہ یہ سوال وزارتوں، عہدوں اور حکومتی وسائل کا نہیں ہے، بلکہ ہمارے حقوق کا ہے.خسرو بختیار نے مریم اورنگزیب کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنوبی پنجاب کی سیاست سے لاعلم ہیں، کابینہ میں مخصوص نشست پر آئی ہیں، ان سے متعلق کیا بات کروں، مریم اورنگزیب کا طریقہ سیاسی کلچر میں‌ منفی روایت ہے.انھوں نے کہا کہ اگر کامیابی ملی، تو اسی جماعت سے اتحاد کریں گے، جس کا پہلا ایجنڈا جنوبی پنجاب کا قیام ہو، ن لیگ نے اب جنوبی پنجاب کی آفر کی، تو کہوں گا کہ بہت دیر کردی مہرباں آتے آتے، پی ٹی آئی ٹھوس مؤقف سامنے لائے گی، تو ان سے بات ہو سکتی ہے.انھوں‌ نے کہا کہ ہم آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے تھے، تو پھر اس فیصلے پر ووٹ کے تقدس کا سوال کہاں سے پیدا ہوگیا، جب سینیٹ انتخابات کا وقت آیا، تو ن لیگ نے ملتان سے ایک ٹکٹ دیا، ملتان کے امیدوار کو بھی یہ اندازہ تھا کہ وہ ہار جائیں گے.انھوں‌ نے اپنے حالیہ فیصلہ سے متعلق کہا کہ ہم نے کافی ہوم ورک کررکھا ہے، مزید کی بھی ضرورت ہے، بہت سے لوگ رابطے میں ہیں۔خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ صرف جنوبی پنجاب کی آبادی 3 کروڑ کےقریب ہے، جو خیبرپختونخواہ کی آبادی کے برابر ہے، ن لیگ میں‌ ہمارے مطالبے کو اہمیت نہیں‌ دی گئی.انھوں‌ نے کہا کہ ہماری آواز جنوبی پنجاب کے ہر گاؤں سے اٹھے گی، یہ ایم این اے یا ایم پی ایز تک محدود نہیں رہے ہم بہاولپور، ڈی جی خان، ملتان اور دیگر شہروں کی ترقی چاہتے ہیں، نئے صوبے بننا وفاق کی مضبوطی کے لئے ضروری ہیں.