ن) لیگ والے تو بڑے کینہ پرور نکلے، نواز شریف کو جوتا مارنے والے شخص کو ایک اور مقدمے میں گھسیٹنے کا فیصلہ کر لیا گیا

ن) لیگ والے تو بڑے کینہ پرور نکلے، نواز شریف کو جوتا مارنے والے شخص کو ایک اور مقدمے میں گھسیٹنے کا فیصلہ کر لیا گیا


لاہور (ویب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف پر تقریب کے دوران جوتا پھنکنے والے ملزمان کے خلاف درج مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کے معاملے میں تینوں ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ جسٹس سردار محمد شمیم خان کی سربراہی
میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی۔ پنجاب حکومت نے مقدمہ سے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کے خلاف اپیل دائر کی جس میں کہا گیا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 مارچ کو مقدمہ سے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کر دی تھیں۔ ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل پنجاب خرم خان نے لاہور ہائیکورٹ میں یہ دفعات مقدمے میں دوبارہ شامل کرنے کیلئے اپیل دائر کی۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملزمان منور حسین اور دیگر 2 ملزمان نے تقریب کے دوران نواز شریف پر جوتا پھینکا تھا اور ملزمان کے خلاف قلعہ گجر سنگھ پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا، مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بحال کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے سماعت 2 مئی تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم محمد نواز شریف پر تقریب کے دوران جامعہ نعیمیہ میں جوتا پھینک دیا گیا۔ سابق طالبعلم منور سگوئی نے جوتا پھینکا جو نواز شریف کے کندھے پر لگا ڈائس کے سامنے آکر نعرے بھی لگائے جس پر وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں اور شرکاء نے منور کو فوری طور پر قابو کر لیا اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا
جس سے وہ بے ہوش ہو گیا، قبل ازیں پنڈال میں موجود عبدالغفور کی جانب سے میاں نواز شریف کی جانب پھینکا جانے والے جوتا سٹیج پر گرا، جس کے بعد پولیس نے جوتا پھینکنے والے دونوں نوجوانوں اور ان کے مبینہ ساتھی ساجد کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا، مشتعل لیگی کارکن تھانے پہنچ گئے اور حوالات میں بند ملزمان کو مارنے کی کوشش کی اور باہر سے کھڑے ہو کر جوتے دکھاتے رہے۔ تفصیلات کے مطابق محمد نواز شریف گڑھی شاہو میں واقع جامعہ نعیمیہ کے زیراہتمام مفتی محمد حسین نعیمی اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید کی یاد میں منعقدہ سالانہ تقریب میں شریک تھے۔ جیسے ہی نواز شریف خطاب کے لئے ڈائس پر پہنچے تو سٹیج کے قریب موجود ایک نوجوان نے ان پر جوتا پھینک دیا اور اس نے دونوں ہاتھ فضا میں بلند کر کے نعرہ بھی لگایا تھا۔ واز شریف کی سکیورٹی نے انہیں فوری طورپر اپنے حصار میں لے لیا جبکہ دیگر اہلکاروں اور شرکاء نے جوتا پھینکنے والے شخص کو قابو کر لیا اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ بیہوش ہو گیا۔ نواز شریف مختصر خطاب کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئے۔ جامعہ نعیمیہ کی انتظامیہ نے جوتا پھینکنے والے نوجوان کو ہوش میں لا کر اس سے پوچھ گچھ کی جس کے بعد اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔