جیو کس نے بند کروایا؟

جیو



جیو کس نے بند کروایا؟





پاکستان کے مختلف شہروں میں گذشتہ تین روز سے جیو نیٹ ورک کے تمام چینلز کی پراسرار بندش جاری ہے، جسے جیو ’غیرقانونی بلیک آؤٹ‘ کا نام دے رہا ہے۔
اس بارے میں شکایتوں پر کارروائی کرتے ہوئے پیمرا نے جیو کی بندش کرنے والے دو بڑے کیبل آپریٹروں کے لائسنسوں کی معطلی کا نوٹس جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جیو کی بندش پیمرا کے احکامات پر نہیں کی جا رہی۔
وہیں جیو انتظامیہ کا شکوہ ہے کہ حکومت اور پیمرا کو اس بات کی تحقیق کرنی چاہیے کہ آخر یہ اقدامات کس کے کہنے پر کیے جا رہے ہیں۔
پیمرادنیا بھر میں خودمختار ڈش سسٹم کے تحت ٹی وی چینلوں کا ریموٹ کنٹرول ناظرین کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ البتہ پاکستان میں عوام کے لیے آج بھی ٹی وی تک رسائی کیبل آپریٹروں کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اگر کیبل پر کوئی چینل آف ایئر ہے، تو عوام کالی سکرین دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
چند نالاں صارف کیبل والے کو فون کر کے وجہ پوچھ لیتے ہیں لیکن بالآخر خاموشی اختیار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ جیو کی حالیہ بندش اسی سلسلے کی کڑی ہے اور یقیناً یہ پہلی بار نہیں کہ پاکستان میں کسی چینل کو کیبل سے آف ایئر کر دیا گیا ہو۔ گذشتہ چند برسوں میں جیونیوز، اے آر وائے نیوز اور ڈان نیوز سمیت متعدد چینلوں کو اس بندش کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
کیبل آپریٹروں کا کہنا ہے کہ چینل کے پیکجز سے لے کر ان کی کیبل پر نمبرنگ کی بھی ایک سائنس ہے۔ غرض یہ کہ جو زیادہ نوازتا ہے، اس کا چینل بہتر نمبر اور فریکوئنسی پر رکھا جاتا ہے۔
لاہور کے ایک مقامی کیبل آپریٹر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’جیو کی حالیہ بندش کی ہدایات ان قوتوں کی طرف سے آئی ہیں، جن کا نام نہیں لیا جا سکتا۔ وہ بوٹ والے روزانہ کی بنیاد پر ملک کے تمام بڑے کیبل آپریٹروں کو فون کرتے ہیں اور جو بندش کے احکامات نہ مانے، ان کے آفس میں ایک سادہ لباس اور ایک رنگین لباس والی شخصیت دورہ کرتی ہے۔‘
کیبل آپریٹر کا کہنا ہے کہ ماضی میں چینل کی بندش کے لیے مخصوص دنوں کی اطلاع دی جاتی تھی لیکن اس بار کہا گیا ہے کہ ’جیو تب تک بند رکھو جب تک ہم نہیں کہتے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں بڑے کیبل آپریٹر چینلوں کی ٹرانسمیشن اور نمبرنگ کے حوالے سے فیصلے کرتے ہیں اور چھوٹے آپریٹر ان سے چینل فیڈ لے کر اپنے علاقے میں ویسے ہی نشر کرتے ہیں۔
لیکن کیبل آپریٹروں میں بھی گٹھ بازی اور تنظیموں کی تفریق موجود ہے۔ جو بڑے کیبل آپریٹر سیاسی یا ذاتی وجوہات کی بنا پر جیو کی مکمل بندش پر راضی نہیں ہوئے انھوں نے بندش کے بجائے جیو کے چینلوں کی فریکوئنسی بدل کر ان کو آخری نمبروں پر منتقل کر دیا ہے۔
عوام کی شکایات اور میڈیا میں آزادی صحافت کی بحث کے بعد دو اپریل کو پیمرا نے ملک میں کیبل آپریٹروں کی جانب سے جیو کی بندش پر کارروائی کرتے ہوئے دو کیبل آپریٹروں کے لائسنس معطل کرنے کا نوٹس جاری کیا۔
پیمرا نے ٹویٹ کے ذریعے یہ بات بھی واضح کر دی کہ ان اقدامات کے پیچھے پیمرا کا کوئی ہاتھ نہیں اور تمام کیبل آپریٹروں کو ہدایات دی گئیں کہ جیو کہ تمام چینلوں کو 24 گھنٹوں کے اندر ان کی اصل پوزیشن پر بحال کر دیا جائے۔
لیکن جیو کے نیوز ڈائریکٹر رانا جواد کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رانا جواد نے بتایا کہ پیمرا کے نوٹس کے باوجود جیو کی ملک بھر میں کیبل پر واپسی ممکن نہیں ہوئی۔
’صرف جیو نیوز نہیں، جیو کے تمام چینلز پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں بڑے سکیل پر بند ہیں۔ پیمرا نے دو کیبل آپریٹروں کو نوٹس جاری کیے جس کے بعد چند گھنٹوں کے لیے جیو کو کیبل پر بحال کر دیا گیا لیکن بعد میں پھر بند کر دیا گیا۔‘