یہ شرمناک کام تو میں نے کب کا چھوڑ دیا شیری رحمان..... نے اپنے بارے میں مشہور ترین افواہ کا گلا گھونٹتے ہوئے انکشاف کر دیا
اسلام آباد(ویب ڈیسک)آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریں مزاری جس وقت سپیکر قومی اسمبلی کو ’یار ‘کہہ کے مخاطب کیا تو لمبی بحث چھڑ گئی اورپورا ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا تاہم دوسری جانب سینیٹ کے اجلاس میں شیری رحمان کی سیگریٹ نوشی کے چرچے ہوتے رہے ، شری رحمان نے کہا کہ شائد آپ
کو معلوم نہیں کہ اس نا چیز نے کب سے سگریٹ نوشی چھوڑ دی ہے اور شبلی فراز میرے سگریٹ چھوڑنے کی گواہی بھی دے سکتے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر قیادت اجلاس جاری تھا کہ اس دوران قائدحزب اختلا ف شیری رحماں کی سیگریٹ نوشی پر چرچا شروع ہو گئی ، اس موقع پر وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے پارلیمنٹ کو تمباکو نوشی سے پاک بنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جس نے سیگریٹ پینا ہے وہ پارلیمنٹ سے باہر جا کر پیئے جس پر جہانزیب جمالدینی میدان میں آئے اور وزیر صحت کی بات پر اتفاق کیا اور اس پر صادق سنجرانی نے بھی مداخلت کی اور کہا کہ آپ صرف متفق ہیں لیکن سیگریٹ نہیں چھوڑیں گے ۔ یہ گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ شیری رحمان میدان میں آئیں اور کہنے لگیں کہ شائد آپ کو معلوم نہیں کہ اس نا چیز نے کب سے سگریٹ نوشی چھوڑ دی ہے اور شبلی فراز میرے سگریٹ چھوڑنے کی گواہی بھی دے سکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسپیکر سردار ایاز صادق اور تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا۔اسمبلی اجلاس کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے رکن شیخ صلاح الدین نے نشاندہی کی کہ شیریں مزاری نے
بات کرتے ہوئے اسپیکر کے لئے ‘یار’ کا لفظ استعمال کیا اس لیے اُسے حذف کیا جائے۔ اسپیکر ایاز صادق نے شیریں مزاری کو وضاحت کا کہا جس پر انہوں نے کہا کہ ‘کیا میں نے آپ کو یار کہا ہے جس پر ایاز صادق نے کہا کہ آپ نے کہا کہ ورنہ میری کیا مجال۔اسی اثنا میں اپنے بیان کی وضاحت کے دوران شیریں مزاری روانی میں ایک بار پھر اسپیکر کو ‘یار’ کہہ گئیں جس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے۔شیریں مزاری نے کہا کہ میں آپ کو یار کیوں کہوں گی، میں آپ کو اسپیکر کہتی ہوں۔اسپیکر ایاز صادق نے اس پر کہا کہ آپ مجھے ‘یار’ کہا اس کی گواہی اسد عمر اور شفقت محمود سے لے سکتی ہیں جس پر شیریں مزاری نے کہا کہ اسد عمر اور شفقت محمود ساتھی ہیں، ان کے لیے یہ لفظ استعمال کر سکتی ہوں آپ کے لیے نہیں۔اسپیکر نے ‘یار’ کا لفظ حذف کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس لفظ کو ہلکے پھلکے انداز میں لیتے ہیں۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ شیریں مزاری میری دوست اور بڑی بہن ہیں، بڑی بہن کہنے پر شیریں مزاری نے اعتراض اٹھایا جس پر ایاز صادق نے کہا کہ میں نے آپ کا شناختی کارڈ دیکھا ہے، آپ مجھ سے عمر میں بڑی ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے شیریں مزاری کو کہا چلیں آپ چھوٹی بہن بن جائیں اور آئندہ ایسے الفاظ استعمال نہ کریں جس پر شیریں مزاری نے جواب دیا کہ یہ ٹھیک ہے۔
Social Plugin