یہ چوں چوں کر رہی ہیں، انہیں چپ کرائیں۔۔۔شیریں مزاری کے حوالے سےتا زہ ترین لطیفہ سامنے آگیا
اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوسرے روز بھی سپیکر قومی اسمبلی اور شیری مزاری کے درمیان دلچسپ جملو ں کا تا دلہ ہوا۔ گزشتہ روز ڈاکٹر شیری مزاری قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر رہی تھیں تو اس موقع پر خواتین کا شور سنائی دے رہا تھا،
جس پر شیری مزاری نے سپیکر کو کہا کہ آپ ان خواتین کو چپ کروائیں جو کب سے چوں چوں کر رہی ہیں۔ اس پر ایوان میں قہقہے لگ گئے اور سپیکر نے شیری مزاری سے استفسار کیا کہ خواتین ارکین کیا کر رہی ہیں؟ تاہم اس کے جواب میں شیری مزاری نے بھی قہقہے لگائے، اراکین کے مطالبے کے باوجود سپیکر نے چوں چوں کے الفاظ کارروائی سے حذف نہیں کروائے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق قومی اسمبلی میں اسپیکر ایاز صادق اور شیریں مزاری کےدرمیان دلچسپ جملوں کاتبادلہ ہوا ہے ،جس سے ایوان زعفران زار ہوگیا۔ دوران اجلاس ایم کیو ایم پاکستان کے رکن شیخ صلاح الدین نے نشاندہی کی کہ شیریں مزاری نے گفتگو کرتے ہو ئے اسپیکر کو’’ ‘یار‘‘ کہہ کر مخاطب کیا اس لفظ کو کارروائی سے حذف کیا جائے۔سپیکر نے شیریں مزاری سے وضاحت کرنے کیلئے کہا جس پرشیریں مزاری نے کہا کہ میں آپ کو اسپیکر صاحب کہتی ہوں’’ یار‘‘ کیوں کہوں گی۔اس دوران شیرین مزاری نے ایک مرتبہ پھر روانی میں اسپیکر کو ‘یار کہہ دیا جس پر ایوان میں قہقہے بلند ہو گئے۔اسپیکر ایاز صادق نے اس پر کہا کہ آپ نے مجھے ‘یار کہا اس کی گواہی اسد عمر اور شفقت محمود سے لے سکتی ہیںجس پر شیریں مزاری نے کہا کہ اسد عمر اور شفقت محمود ساتھی ہیں، ان کے لیے یہ لفظ استعمال کر سکتی ہوں آپ کے لیے نہیں۔اسپیکر نے ‘یار کا لفظ حذف کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس لفظ کو ہلکے پھلکے انداز اور دوست کے زمرے میں لیتے ہیں۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ شیریں مزاری میری دوست اور بڑی بہن ہیں، بڑی بہن کہنے پر شیریں مزاری نے اعتراض اٹھایا جس پر ایاز صادق نے کہا کہ میں نے آپ کا شناختی کارڈ دیکھا ہے، آپ مجھ سے عمر میں بڑی ہیں۔شیریں مزاری سے مخاطب ہوتے ہو ئے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا آپ بڑی نہ سہی چھوٹی بہن بن جائیں اور آئندہ ایسے الفاظ استعمال نہ کریں جس پر شیریں مزاری نے جواب دیا کہ یہ ٹھیک ہے۔شاہ محمود قریشی نے بھی تبصرہ کرتے ہو ئے کہا کہ یاری جب پیچھے والوں کے ساتھ ہو سکتی ہے تو آگے والوں سے کیوں نہیں؟
0 Comments