خیبر پختونخوا میں تبدیلی آگئی؟ تحریک انصاف کی حکومت نے کیا ریکارڈ قائم کر دیا؟ ہوش اڑا دینے والی خبر آگئی
خیبر پختونخوا (ویب ڈیسک)خیبر پختون خوا کی پی ٹی آئی حکومت نے قرضے لینے کا ریکارڈ قائم کر دیا۔دستاویز کے مطابق کے پی کے حکومت کی جانب سے 3منصوبوں کے لیے 99ارب 47کروڑ 50لاکھ روپے قرض لیا گیا، جن میں بس ریپڈٹرانزٹ، توانائی اور آبپاشی کے منصوبے شامل ہیں۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بی آر ٹی کے لیے 41ارب 88کروڑ روپے سے زائد قرض لیا گیا،جبکہ مالیاتی اداروں نے مزید ایک کھرب 83ارب روپے قرضہ دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ قرضوں کی رقم دیگر 10 منصوبوں پر خرچ کی جائے گی،جن میں سڑکوں کی مرمت، زراعت، سیاحت، توانائی اور پینے کے صاف پانی کے منصوبے شامل ہیں۔دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی 20 سے 38 سال کے دوران کی جائے گی، جن پر مارک اپ اعشاریہ 6سے 2 فیصد ہے۔یہ تمام قرضے ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک، سعودی اور فرانسیسی اداروں سے لیے گئے یا لیے جائیں گے۔خیبرپختونخوا حکومت کے وزیر شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت سے پیسے بروقت نہیں مل رہے کیونکہ وفاق میں مخالف حکومت کے باعث حکومت چلانے کے لیے قرضے لینے پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکومتوں نے جو قرضے لیے وہ جیبوں میں گئے۔دوسری جانب خبر کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا قرضوں کے بوجھ تلے پھنس گیا ہے، قرضوں کے حجم میں دو برس میں دو کھرب کا اضافہ ہوا ہے، ایشیائی بینک سے 325 ملین ڈالر کا قرض لیا گیا، کے پی کے حکومت میگا بس منصوبے پر بھی 505 ملین ڈالر کی مقروض ہے،
پیہور ہائی لیول کینال ایکسٹینشن کے منصوبے کے لیے 9 جون 2017ء کو 88.405 ملین ڈالر کے قرض کا معاہدہ ہوا،اس قرض کی واپسی مدت بیس سال ہے اور اس کی رعایتی مدت پانچ سال ہے،توانائی تک رسائی کے منصوبے کے لیے 7 فروری 2017ء کو 325.00 ملین ڈالر کے قرض کا معاہدہ ہوا جس کی واپسی کی مدت اکیس سال ہے، واضح رہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی میں مالی سال 2017-18ء کیلئے صوبے کا 603 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کیا گیا تھا، اس بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے آٹھ ارب، بیرونی و اندرونی قرضوں کی واپسی اور سرکاری ملازمین کو ہاوس بلڈنگ و موٹر سائیکل ایڈوانسز کیلئے سات ارب رکھے گئے تھے ۔ یاد رہے کہ اکتوبر 2017 میں صوبائی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران پیپلز پارٹی کے ایم پی اے فخر اعظم وزیر نے سوال کیا کہ مالی سال 2017-18 ء میں صوبائی حکومت نے کتنا اندرونی قرضہ کس کس سے اور کیوں لیا ہے، مذکورہ قرض کب واپس اور اس پر کتنا سودا ادا کیا جائے گا، جس پر صوبائی محکمہ خزانہ کی جانب سے فراہم کردہ تحریری جواب میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے مالی سال 2017-18ء کے دوران 10 ارب روپے کا اندرونی قرضہ لینے کا ہدف مقرر کیا ہے لیکن تاحال اس مد میں کوئی قرضہ نہیں لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل عمران خان نے 20ستمبر 2014میں ایک عوامی اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخواہ میں 350چھوٹے ڈیمز بنانے کا اعلان کیا تھا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم خیبر پختونخوا میں 350چھوٹے ڈیمز بنانے جارہے ہیں جن سے بجلی کی پیدوار اتنی سستی ہوگی کہ صارف کوفی یونٹ 2روپے چارج ہوگا۔
Social Plugin